BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 February, 2004, 14:58 GMT 19:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اعتراف: رضاکارانہ یا دباؤ کے تحت؟
ایٹمی پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیر
ایٹمی پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیر
پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیر نے سرکاری ٹیلی ویژن پر قوم سے ایک خطاب میں ایٹمی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے الزامات کا اعتراف کیا ہے اور اپنے کیے پر معافی مانگی ہے۔ حالیہ دنوں میں ان الزامات کے بعد کہ پاکستان نے ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو ایٹمی ٹیکنالوجی منتقل کی ہے، ڈاکٹر عبدالقدیر متعدد سائنس دانوں کے ساتھ حراست میں ہیں۔

پاکستان کے اس ایٹمی تنازعے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔


نصیر احمد، جرمنی: دشمن پاکستانی قوم کے حوصلے پست کر دینا چاہتا ہے جس کی وجہ سے اس نے اس طرح ہمارے ہیروز کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ پاکستان پر ایک نفسیاتی حملہ ہے۔ میری قوم سے متحد رہنے اور دشمن کے ہاتھوں میں نہ کھیلنے کی درخواست ہے۔

محمد عرفان قائم خانی، کراچی: حکومت اس وقت امریکہ کی غلام بنی ہوئی ہے اور عوام کو بے وقوف سمجھتی ہے۔ اگر احتساب ہی ہونا ہے تو تمام اداروں اور فوجی افسروں کو بھی احتساب ہونا چاہئے۔ دل میں تو بہت کچھ ہے مگر کیا کریں کچھ کر نہیں سکتے۔ اگر طاقت عوام کے پاس ہوتی تو ان لوگوں کو پتہ چل جاتا ۔

کاشف عمران اعوان، لاہور: ’سب سے پہلے پاکستان‘ کے نعرے کی آڑ میں وہ سب کچھ کیا جارہا ہے جو نہیں ہونا چاہئے۔ ڈاکٹر قدیر کو استعمال کیا گیا ہے قربانی کے بکرے کے طور پر۔ فوج خود کو نیک دکھاتی ہے لیکن سب سے زیادہ بدعنوان وہی ہے۔ امریکہ کے اشارے پر یہ سب اس لئے کیا گیا ہے کہ کوئی اور قدیر بننے کی کوشش نہ کرے۔

مقبول چنا، برطانیہ: ڈاکٹر قدیر کی جان کو ننانوے فیصد خطرہ ہے۔ کوئی نہیں سمجھ رہا کہ زبردستی الزام اپنے سر لینے کے بعد انہیں مار دیا جائے گا کہ کہیں اصلی راز نہ کھل جائے۔

عبدالنعیم قریشی، کراچی: اس وقت قوم کے مفاد میں ہمارے ہیرو اور حکومت نے جو بھی ایکشن لیا ہے میں اس سے بہت مطمئن ہوں۔

شعیب خالد، میونخ: چھ فروری کی ہڑتال نے ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان دشمن طاقتیں کامیاب رہیں۔ جزوی ہڑتال ہم سب کے لئے لمحہِ فکریہ ہے۔ اتنے اہم مسئلے پر بھی قوم اکٹھی نہ ہو سکی۔ ملک دشمن عناصر حکومت میں ہی نہیں بلکہ عوام میں بھی سرایت کر گئے ہیں۔ جیسا ڈاکٹر قدیر نے کہا اب اللہ ہی پاکستان کی حفاظت کرے۔

عمران خان، کراچی: جو کچھ بھی ہوا بہت برا ہوا۔

محمد عامر خان، کراچی: پہلے یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ملک پہلے ہے یا ہیرو۔ اگر ہیرو نے ملک کے لئے کچھ کیا بھی ہے تو اس کا صلہ اس کو ہر صورت میں ملا۔ ہیرو نے اگر غلط کام کیا ہے تو اس کی سزا نہ سہی لیکن تفتیش تو ضروری ہے۔ اگر خان ریسرچ لیبارٹری کے کسی چپڑاسی نے بھی کوئی راز افشاء کیا ہے تو اس کی ذمہ داری بحیثیت چیئرمین کے قدیر خان پر ہے۔

اصل چوہدری، شکاگو: اس سارے ڈرامے سے ثابت ہوتا ہے کہ پرویز مشرف امریکہ کے پٹھو ہیں۔ وہ امریکہ کے کہنے پر کچھ بھی قربان کر سکتے ہیں۔

طارق حمید، کراچی: انہیں صرف قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔

خانم سمرو، کراچی: ڈاکٹر قدیر خان کی معافی نے ساری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔

انصار اقبال، ناروے:یہ سب بیرونی دباؤ کے تحت ہوا ہے۔

محمد اعظم بٹ، پاکستان: ٹیکنالوجی یا معلومات کا تبادلہ کوئی جرم نہیں ہے اور یہ اصل مسئلہ ہے ہی نہیں۔ ہمارا اصل مسئلہ ہے کہ ہم غریب اور مسلمان ہیں اور ہماری قیادت جرنیلوں اور سیاستدانوں کے ہاتھ میں ہے۔

غلام عباس اعوان، میانوالی: یہ ایران اور لیبیا کی سازش ہے۔ پاکستانی قوم کو مشرف کی بجائے ان ممالک کے خلاف احتجاج کرنا چاہئے۔

مجاہد اقبال، اسلام آباد: میرا خیال ہے یہ سب ہمارے بدعنوان سیاستدانوں کی وجہ سے ہے۔ اگر ماضی میں ہماری حکومتیں منصفانہ، حق پسندانہ اور حب الوطن رہی ہوتیں تو ایسا نہ ہوتا۔

اسداللہ، راجوری: ڈاکٹر قدیر کے اعترافِ جرم سے پاکستان کی تمام حکومتیں اور جرنیل مشکوک ہو گئے ہیں۔ مشرف نے پاکستان کے خلاف کاروائی کے لئے بنیاد فراہم کر دی ہے۔

جاوید اقبال بٹ، شیخوپورہ: اس ملک میں ہمیشہ ایسا ہوتا رہا ہے۔ ڈاکٹر قدیر خان سے پہلے بھٹو کے ساتھ کیا ہوا۔ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں دونوں کا کردار اکٹھا تھا۔ اگر ہیرو غلطی کرے تو اس کو سزا بھی ملنی چاہئے لیکن ڈاکٹر قدیر ایسے نہیں ہیں۔

الیاس سردار، سعودی عرب: ہمیں اپنے صدر پر مکمل اعتماد ہے اور ہم اس سلسلے میں حکومت کے ہر اقدام کی حمایت کرتے ہیں۔

عصمت اللہ باجوہ، کراچی: ڈاکٹر صاحب نے دوستوں کو ہی ٹیکنالوجی دی ہے تو کون سی قیامت آ گئی ہے۔ دوست کو کوئی چیز دینا جرم نہیں۔ ویسے بھی پاکستان کی جوہری ٹیکنالوجی پر تمام مسلمان ممالک کا حق ہے۔

راحیل قمر، اسلام آباد: آج اگر قائد اعظم بھی ہوتے تو ان کو مشرف سے معافی مانگنا پڑتی، ’پاکستان بنانے پر‘۔

اعجاز چغتائی، کویت: جو کچھ بھی ہوا، افسوس ناک ہے لیکن اس پورے قصے سے کم از کم ایک بات تو ثابت ہو گئی کہ جنرل مشرف کا ’سب سے پہلے پاکستان‘ والا مؤقف باکل ٹھیک تھا۔ ایران اور لیبیا نے ثابت کر دیا کہ ہر ملک کو صرف اپنے بارے میں ہی سوچنا چاہئے ورنہ نتیجہ ڈاکٹر قدیر جیسے لوگوں کی رسوائی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ اب بھی اگر کوئی پاکستانی عراق، ایران یا کسی دوسرے مسلمان ملک کو پاسکتان پر ترجیح دے تو افسوس ہوگا۔

لیاقت حسین، کراچی: میں ڈاکٹر قدیر خان سے بہت شرمندہ ہوں۔

محمد ثاقب احمد، بہار: ڈاکٹر قدیر خان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ایک سازش اور ڈرامہ ہے اور یہ سب کچھ امریکہ اور مغربی ممالک کے اشارے پر کیا گیا ہے۔ جنرل مشرف بیمار اور غلام ذہنیت کے مالک ہیں۔ انہیں کسی آزاد ملک کا سربراہ ہونا ہی نہیں چاہئے۔

ارشد، میلبورن: میرے خیال میں جنرل مشرف اور ڈاکٹر قدیر دونوں ہی ٹھیک کر رہے ہیں۔ ہمیں پہلے اپنے ملک کو بچانا ہے کیونکہ اگر پاکستان ہو گا تو بہت سے قدیر خان پیدا ہو جائیں گے۔ ڈاکٹر قدیر ایک عظیم آدمی ہیں اور تاریخِ پاکستان میں انہیں ہمیشہ ایک ہیرو ہی تصور کیا جائے گا۔

اسامہ بن وحید، ملیر: اس ملک میں کیا ہو رہا ہے؟ میں سب سے زیادہ محبت پاکستان سے کرتا تھا لیکن زندگی میں پہلی بار ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ مجھے ایسے ملک اور ایسے سربراہاں سے نفرت ہے۔

محمد آصف خالق، اسلام آباد: ڈاکٹر قدیر خان یہ کام نہیں کر سکتے۔ مجھے یقین ہے کہ انہوں نے صرف قومی مفادات کے لئے ہی یہ قربانی دی ہے۔ وہ حقیقت میں پاکستان کے عظیم ہیرو ہیں۔

حیات محمد عظیمی، چین: ڈاکٹر قدیر نے مسلم امہ کو مضبوط بنانے کی کوشش کی مگر افسوس کہ وہ ان ممالک کی جرات کا صحیح اندازہ نہ لگا سکے کہ وہ معمولی دباؤ میں تمام راز اگل دیں گے جس سے سب کے لئے مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔

فہد حکیم، پنجگور سوردو: ڈاکٹر قدیر کی ہی کوششوں سے پاکستان وہ پہلا اسلامی ملک ہے جو ایٹمی طاقت بنا۔ ڈاکٹر قدیر ملک کے ہیرو ہیں اور اسی لئے میں ان کی معافی کے حق میں ہوں۔

عابد علی، پاکستان: میرے خیال میں یہ صرف ایک امریکی ایجنڈا ہے جس کا مقصد پاکستان کے جوہری منصوبے کو ختم کرنا ہے۔ انشااللہ ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ جنرل مشرف غدار ہیں اور ڈاکٹر قدیر خان زندہ باد۔

عاشق حسین شین، گلگت: میرے خیال میں ہمیں ملک کے لئے قربانی دینی ہو گی لیکن ہم ملک کے ہیرو ڈاکٹر قدیر خان کو قربان نہیں کر سکتے۔

ساجد حسین، کراچی: ڈاکٹر قدیر خان کے سلسلے میں حکومتِ پاکستان نے جو پنڈورا باکس کھولا ہے اسے بند کرنا اب حکومت کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس سے ملک و قوم کی بدنامی کے علاوہ کچھ نہیں ہو گا۔

اعجاز الحق: یہ پاکستان کی تضحیک ہے۔ حکومت جو کچھ کر رہی ہے اسے یہ نہیں کرنا چاہئے۔

صفدر عظیمی: ڈاکٹر قدیر ایک اچھے شخص اور ان کی رائے بھی اچھی ہے۔

ارشاد علی، تحصیل کوہاٹ: ہیرو ہمیشہ ہیرو ہوتا ہے چاہے وہ کسی بھی میدان کا ہو۔ ڈاکٹر قدیر ہمارے ہیرو ہیں اور نہ صرف ہمیں بلکہ تمام مسلمانوں کو ان پر فخر ہونا چاہئے۔

نومی خان، حیدر آباد: میں صدر جنرل پرویز مشرف کے فیصلے سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔

فدا ایچ زاہد، کراچی: یہ حقیقیت ہے کہ ڈاکٹر قدیر کے اعتراف سے پاکستان بہت سی ممکنہ پریشانیوں سے بچ گیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے پاکستان کے لئے بہت کچھ کیا ہے۔ میں ان کی عظمت کو سلام کرتا ہوں۔

ظہیرالدین بابر، کوالالمپور: میں ایک پاکستانی ہوں اور ملیشیا میں کام کررہا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ بی بی سی ڈاکٹر قدیر کے بارے میں میری رائے شائع کرے گا۔ ان کے بارے میں خبریں پڑھنے کے بعد آج صبح میں رو رہا تھا۔ مجھے لگا کہ میرا دل ٹوٹ گیا ہے۔ میں سوچ رہا تھا کہ ہماری حکومت ہمارے سائنسدانوں کی تذلیل کیوں کررہی ہے۔

راجہ اکرم، فیصل ٹاؤن، پاکستان: ڈاکٹر عبدالقدیر مجرم ہیں اور مجرم کو سزا ملنی چاہئے۔

اطہر خان، جرمنی: ایک وقت آئے گا جب ڈاکٹر قدیر خان صاحب سچے ثابت ہوجائیں گے۔ اس وقت انہوں نے پاکستان کو بچانے کی کوشش کی ہے۔ میں دعاء کرتا ہوں کہ ہمیں اللہ ڈاکٹر خان کی طرح ہمت عطا فرمائے۔

ندیم فاروق، ٹورانٹو: انہوں نے معافی مانگی، اور اس طرح کے اقدام سے پاکستان کو بچالیا۔ وہ ہمارے ہیرو تھے، ہمارے ہیرو ہیں، اور ہمارے ہیرو رہیں گے۔

سید اظہر علی زین، کراچی: جو کچھ پچھلے چند دنوں میں ہوا ہے وہ سب بہت زبردست منصوبے کے تحت ہوا ہے، اس پورے سانحے میں جیت بالاخر پاکستان کی ہوئی اور امریکہ ہار گیا۔

رحمان خان، پشاور: ڈاکٹر قدیر نے پہلے بھی پاکستان آکر، ایٹم بم بناکر اور اب ایک دفعہ پھر دباؤ کے تحت قربانی دی۔ پاکستانی قوم ان کی قربانیوں کو کبھی نہیں بھولے گی۔

نجیب اللہ خان، ٹیکسس، امریکہ: ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ قربانی دے کر ڈاکٹر صاحب ایک دفعہ پھر قوم کا ہیرو بن گئے ہیں۔ مشرف حکومت نے سب کچھ دنیا کو یہ باور کروانے کے لئے کیا ہے کہ پاکستان ایٹمی پھیلاؤ میں ملوث نہیں ہے۔ سب ڈرامہ بازی ہے۔ اللہ پاکستان کی حفاظت کرے۔

محمد انور، کھوکر، کویت: میں صدر مشرف کے فیصلے سے اتفاق کرتا ہوں کہ انہوں نے ڈاکٹر قدیر خان کو معاف کردیا۔ وہ ہم سے بہتر جانتے ہیں، ہمیں حالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور منفی سمت میں سوچنے کی ضرورت نہیں۔

عمر فاروق، گجرانوالہ: ہم وہ قوم ہیں جنہوں نے کبھی کسی سے وفا نہیں کی۔ ڈاکٹر نے اعتراف کے بعد ہم پر ایک اور احسان کردیا۔ میری قوم کے حال پر اللہ رحم فرما۔

رانا انجم سہیل، ہان کانگ: ڈاکٹر قدیر فخرِ پاکستان ہیں۔ انہیں قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔ خدا ڈاکٹر قدیر کی حفاظت کرے۔ آمین!

مبشر عزیز، ہیمبرگ، جرمنی: جب بچے آپس میں چور سپاہی کھیلتے ہیں تو کسی کو چور بننا ہوتا ہے اور ذرا تگڑے قسم کے بچے سپاہی بن جاتے ہیں۔ بس چور سپاہی والا کھیل ختم اب بچے مل کر کوئی اور کھیل کھیلیں گے۔

محمد عمران، منصورآباد، پاکستان: میرے خیال میں یہ واضح ہے کہ چاہے ڈاکٹر قدیر ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی میں ملوث ہوں یا نہ ہوں، انہوں نے صحیح قدم اٹھایا۔ کیونکہ اگر وہ پاکستان حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے تو وہ پاکستان کے لئے مسئلہ ہوتا۔

محمد شجاع، شمالی کراچی: ڈاکٹر قدیر صحاب میری یہ دلی آرزو تھی کہ آپ سے کبھی براہ راست ملاقات ہو اور میں آپ کا شکریہ ادا کروں۔ لیکن آپ کی تقریر جس میں آپ نے قوم سے معافی مانگی ہے سن کر اور دیکھ کر میرا سر شرم سے جھکا ہوا ہے اور دل خون کے آنسو روتا ہے۔

شہزاد، کینیڈا: پہلے افغانستان، پھر عراق، اب پاکستان؟

جاوید کھوسو، سندھ: میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر فرض کریں ایٹمی ٹیکنالوجی شمالی کوریا، لبیا اور ایران کو منتقل ہوگئی ہے تو پھر ضرور فوج بھی ملوث ہوگی۔

محد زاہد حسین، کینیڈا: پاکستانی حکومت کچھ بھی کہے، یہ امریکہ کے کہنے پر ایک ڈرامہ رچایا جارہا ہے۔

شاہد خان، پاکستان: تمام مسلم ملکوں کے رہنما امریکہ کے غلام ہیں۔

عبدالحادی، کرغزستان: ڈاکٹر قدیر اور جنرل مشرف دونوں محب الوطن آدمی ہیں، دونوں نے ملک بلکہ بین الاقوامی طور پر بہت بہتر اقدامات کیے ہیں۔ باقی رہی سیاست خاص طور پر بین الاقوامی سیاست تو یہ بہت ہی گندی چیز ہے جس سے ہر صاحب نظر واقف ہے۔ اس لئے اس پر کسی کے تبصرے کی ضرورت نہیں ہے۔

سید حق، ٹیکسس، امریکہ: اس میں تعجب کی بات نہیں ہے کہ ہم لوگ ڈاکٹر حق کی حمایت کررہے ہیں۔ ایک قوم کی حیثیت سے ہم قومی مسائل پر اپنا ردعمل دیتے ہیں۔ ہم لوگوں کی تربیت ہی ایسی ہوئی ہے۔ پاکستان کو نیوکلیر طاقت بنانا ایک بات ہے لیکن ایٹمی ٹیکنالوجی ان ملکوں کو منتقل کرنا جن کا ریکارڈ خراب ہے دوسری بات ہے۔ ڈاکٹر قدیر نے دونوں ہی کیا۔ انہوں نے پاکستان کو نیوکلیر طاقت بناکر فائدہ اٹھایا اور اس کی ذمہ داری بھی ان پر ہی ہونی چاہئے۔ اس طرح کی ٹیکنالوجی ہر کسی کو نہیں دی جاسکتی ہے۔

وحید رزاق، کرغزستان: ڈاکٹر قدیر ہمارے ہیرو ہیں اور رہیں گے۔ کوئی قصور نہ ہونے کے باوجود سارا الزام اپنے اوپر لینے سے ان کی عظمت اور مٹی کی محبت کا بھرپور اظہار ہوتا ہے۔

حیدر رِند، مکلی، پاکستان: یہ اعتراف صرف قدیر جیسا شخص ہی کرسکتا ہے۔ ذرا مشرف کو ان کی جگہ رکھیں اور سوچیں کیا اتنا دباؤ برداشت کرنا مشرف کے بس کی بات تھی؟

ہارون رشید، سیالکوٹ: ہم کب سنیں گے کہ پاکستان توڑنے والے جرنیلوں کی بھی ڈی بریفِنگ ہورہی ہے؟ اور ہم کب سنیں گے کہ اس ملک کا خزانہ لوٹنے والے اور کرسی پر جمے ان سیاست دانوں کی بھی ڈیر بریفِنگ ہورہی ہے؟

تلاوت بخاری، اسلام آباد: عبدالقدیر خان سائنسدان سے زیادہ ایک سیاست دان ہیں جو ایٹمی ہتھیاروں یعنی کالی دیوی کی پوجاری قوم کا ہیرو بننے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

ریاض احمد، کوٹری، پاکستان: ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو دباؤ کے تحت مجبور کیا گیا۔

نومان احمد، اسلام آباد: سقوط ڈھاکہ کے بعد اس ملک کے عوام کے ساتھ حکمرانوں کی سب سے بڑی زیادتی یہ ہے کہ ڈاکٹر قدیر کو پی ٹی وی پر بیان پڑھنے کے لئے مجبور کیا گیا۔ چھپن سالہ تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ کسی نے ٹی وی پر قوم سے معافی مانگی ہو۔

اردشیر خان آفریدی، اسلام آباد: اس کارروائی کا مقصد قوم کے ایک عظیم محسن کی تذلیل تھا۔ ڈاکٹر قدیر کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ سائنسدان ہیں اور ان کو سیاست کے داؤپیچ نہیں آتے۔

عتیق رحمان، لندن: اللہ کا شکر ہے کہ قائد اعظم جلد ہی وفات پاگئے ورنہ۔۔۔

یوسرا رحما، ٹیکسس: مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے، وہ قرض چکائے جو واجب بھی نہ تھے۔

طارق محمود طارق، فیصل آباد: میرا خیال ہے کہ ٹیکنالوجی کی منتقلی میں کوئی سائنسدان شامل نہیں ہے۔ یہ سب امریکہ کروا رہا ہے۔

یاسر شبیر، جاپان: ڈاکٹر قدیر کی حالت دیکھ کر ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ ہمارے حکمران امریکہ کے کہنے پر ملک کو بیچ بھی سکتے ہیں اور اپنے محسن کو احسان کرنے کی سزا بھی دے سکتے ہیں۔

حمزہ خان، پاکستان: لااکٹر قدیر قوم کے ہیرو ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کے بہترین سال ملک کی نذر کئے ہیں اور یہ ان کی ملک کے لئے ایک اور قربانی ہے۔

سعید خٹک، نوشہرہ: ڈاکٹر قدیر، اپ ایک عظیم ہیرو ہیں اور رہتی دنیا تک آپ کو بھلایا نہیں جائے گا۔ آپ نے ان تمام الزامات کو خود پر ڈال کر ایک مرتبہ پھر اپنی عظمت کا ثبوت دیا ہے۔

۔۔۔مگر بات ہے رسوائی کی
رہے ہمارے قومی ہیروز تو ان کی تذلیل تو ہم ہمیشہ سے کرتے ہی آئے ہیں، اب ڈاکٹر صاحب بھی سہی۔ ایک دو دن میں ہم نئے ہیروز ڈھونڈھ لیں گے۔
محمد ارشد بشیر، ملتان

محمد ارشد بشیر، ملتان: بات یہ ہے کہ اگر ایک بندے کی قربانی سے ہماری سابقہ حکومتیں، اعلیٰ افسران اور فوج کی جان چھوٹ سکتی ہے تو قومی مفاد کی خاطر سودا مہنگا نہیں۔ رہے ہمارے قومی ہیروز تو ان کی تذلیل تو ہم ہمیشہ سے کرتے ہی آئے ہیں، اب ڈاکٹر صاحب بھی سہی۔ ایک دو دن میں ہم نئے ہیروز ڈھونڈھ لیں گے۔ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔

ابرار، دیر، پاکستان: ڈاکٹر قدیر نے یہ سب کچھ فوجی دباؤ میں آکر فوج کو بچانے کے لئے کیا ہے۔ کل فوج کسی کو مار کر اسے خودکشی بھی قرار دے سکتی ہے۔ اس ملک میں ہر چیز ممکن ہے۔ فوج اطلاعات رکھنے والے کو ہمیشہ کے لئے خاموش کرنے کے لئے ایسا کر سکتی ہے۔

اشرف محمود، لاہور: یہ بات کھلی حقیقت ہے کہ ضیاءالحق اور اس کے بعد کے ادوار میں پاکستانی دفاعی اور خارجہ پالیسیوں کے خدوخال فوجی جرنیل ہی طے کرتے رہے ہیں۔ نوے کی آخری دہائیوں تک اندرونی اور بیرونی محاذوں پر فوجی جرنیلوں کا کردار جارحانہ اور بین الاقوامی طاقتیں ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں تھیں۔ عالمی طاقتوں کے بدلتے مفادات آج بھی پاکستان میں ایک فوجی جرنیل کی پالیسیوں کی متقاضی ہیں۔ ایک ایسا جرنیل جو اپنی جنگجویانہ جبلت کا تختہِ مشق بھلے اپنے ملک کو تو بنائے لیکن خارجہ و دفاعی معاملات میں ان پر عمل کرے جن کا سبق اسے پڑھایا گیا ہو۔ فوجی جرنیل بدلتے عالمی تقاضوں کو سمجھ چکے ہیں اور اب اپنے کردارو عمل کے دائرہ کار کا ازسرِ نو تعین کر رہے ہیں۔ خارجہ و دفاعی پالیسیوں کی تعمیرِ نو کے اس عمل کے دوران جرنیلوں کو اپنی بیرونِ ملک جنگجویانہ تجاوزات کو سمیٹنا پڑ رہا ہے۔ پسپا ہوتے جرنیل حسبِ توقع اب اپنے گناہوں کا بوجھ سویلین سائنسدانوں کے سر ڈال رہے ہیں۔

ثاقب نذیر، مانسہرہ: قدیر خان ابھی تک اسلامی دنیا کے ہیرو ہیں۔ وہ انتہائی دیانت دار آدمی ہیں اور ان کے ارد گرد امریکی اور یہودی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ یہ پاکستان اور اسلامی دنیا کے سائنسدانوں کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے۔

آصف ججہ، کینیڈا: یہ منصفانہ بات نہیں ہے۔ الزام صرف قدیر خان پر ہی کیوں، فوجیوں پر کیوں نہیں؟ مشرف پر کیوں نہیں؟

عدنان راجہ، لندن: اس پورے معاملے میں بدعنوانی کے ماسٹر قوم کے ہیرو کو ذلیل کر رہے ہیں جن کی بدعنوانیاں ثابت ہو چکیں اور جن کے مقدمات نیب اور پاکستان کی دوسری عدالتوں میں چل رہے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بحیثیت قوم کے ہم کتنے گھٹیا ہو چکے ہیں اور اپنے ذاتی مفادات کے لیئے ہم کہاں تک جا سکتے ہیں۔

راشد فراز، ٹورانٹو: ڈاکٹر قدیر سے دباؤ کے تحت بیان لیا گیا ہے۔ دراصل فوج نے اپنی کالی کرتوتوں پر پردہ ڈالنے اور امریکہ کے کہنے پر کھولا گیا یہ پنڈورا بکس بند کرنے کی ناکام کوشش ہے۔

اعصابی گیس کے اثر میں
 ڈاکٹر قدیر کو دیکھ کر صاف ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اعصابی گیس کے اثر میں یہ بیان دیا ہے۔
سونیا چوہدری، آٹووا

سونیا چوہدری، آٹووا: ڈاکٹر قدیر کو دیکھ کر صاف ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اعصابی گیس کے اثر میں یہ بیان دیا ہے۔ تف ہے ان لوگوں پر جنہوں نے یہ بیان حاصل کرنے کے لئے ایسا پرتشدد طریقہ اپنایا۔

سید محمد عمران، ہیمبرگ: مجھے تو اس ساری صورت حال پر یقین ہی نہیں آتا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر کے ساتھ یہ بہت بڑی زیادتی ہے۔

یاسر ممتاز، رینالاخرد: یہ پاکستان ہے اور یہاں کی پولیس دنیا میں مشہور ہے کہ وہ مُردوں سے سے بات اگلوا لیتی ہے تو ڈاکٹر صاحب کس کھیت کی مولی ہیں۔ یہ سب کچھ زبردستی کیا گیا ہے۔

محمود کریجو، کیماڑی: سائنسدانوں کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے۔ اس کے ذمہ دار وہ انتظامیہ اور حکام ہیں جو اس ایٹمی پروگرام کی نگرانی پر فائز ہیں۔ اصل میں حکومت ہی اس سارے معاملے کی ذمہ دار ہے۔

امجد فاروق، اٹلی: یہ سب ڈرامہ مسلمانوں کے خلاف رچایا جا رہا ہے خصوصاً پاکستانی مسلمانوں کے خلاف۔ اب وہ وقت دور نہیں جب حقیقت سب پر عیاں ہو جائے گی۔

محمد ندیم اکرام، برطانیہ: ڈاکٹر قدیر پاکستانی قوم کے ہیرو ہیں۔ میرے خیال میں ان کے خلاف کارروائی کرنا درست قدم نہیں ہو گا۔ خدا ان کا حامی و ناصر ہو۔

فیاض خان، اٹک: جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی سے متعلق جاری رہنے والی تمام کی تمام سرگرمیاں بکواس ہیں۔ ڈاکٹر قدیر کو حالیہ بیان دینے پر مجبور کیا گیا ہے اور پوری قوم کو ملکی حکومت اور فوج کے ہاتھوں شرمندگی اٹھانی پڑی ہے۔ میرے خیال میں اس مسئلے کے ساتھ انصاف سے نمٹنے کی ضرورت تھی۔

عمر بھٹہ، امریکہ: یہ سب کچھ ایسا تاثر دینے کی کوشش ہے کہ صدر مشرف کی حکومت کا سائنسدانوں کو ہراساں کرنے کا اقدام بالکل درست ہے۔ قاضی حسین احمد نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ ڈاکٹر قدیر نے دباؤ کے تحت بیان دیا ہے اور حکومتِ پاکستان اس مرتبہ پھر تفصیلات شائع نہیں کرے گی جیسا کہ اس نے ڈھاکہ کے واقعہ کے وقت کیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد