’نظر بندی چیلنج کریں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں نظر بند کئے جانے والے نیوکلئیر سائنسدانوں میں سے ایک کے وکیل ایڈووکیٹ شاہ خاور نے کہا ہے کہ نظر بندی کے فیصلے کو ایک رِٹ درخواست کے ذریعے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔ شاہ خاور نے کہا کہ ابھی تک حکومت نے ان سائنسدانوں کو حراست میں رکھنے کا جواز نہیں بتایا۔انہوں نے کہا کہ رٹ درخواست میں حکومت سے ان لوگوں کو حراست میں رکھنے کا جواز پوچھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نظر بندی کے باقاعدہ حکم کے جاری ہونے کے بعد اب حکومت ان افراد کی نظربندی کی جگہ کا تعین بھی کرے گی۔ اس سے قبل سکیورٹی آف پاکستان ایکٹ انیس سو باون کے تحت حکومت کے زیر تحویل چھ افراد کو اکتیس جنوری دو ہزار چار سے تین ماہ کے لیے نظر بند کیا گیا تھا۔ نظر بند کیے جانے والے ان افراد میں ڈاکٹر نذیر، ڈاکٹر فاروق، ڈاکٹر زبیر، اور تین ریٹائرڈ فوجی بریگیڈیر تاجور، بریگیڈیر سجاول اور میجر اسلام شامل ہیں۔ اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے مزید قانونی کارروائی کے بارے میں خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ پاکستان کی قومی کمانڈ اتھارٹی کا اجلاس چند روز میں متوقع ہے اور وہ ہی اس سلسلے میں کسی فیصلے کا مجاز ادارہ ہے۔ کمانڈ کونسل کا اجلاس صدر جنرل مشرف کی صدارت ہی میں ہو گا اور اسی میں فیصلہ کیا جائے گا کہ ان لوگوں کے خلاف کیا کارروائی کی جائے گی۔ ان کے مطابق ان لوگوں کو اس لیے نظر بند کیا گیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں ان کی حبسِ بے جا کی زیر سماعت درخواستوں میں حکومت کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ آئندہ سماعت پر ان افراد کے بارے میں تحریری جواب داخل کرے، اور باقاعدہ نظر بندی سے حکومت کو جواب دہی کی سہولت حاصل ہو جائے گی۔ ان میں سے ڈاکٹر فاروق کو عیدالفطر کے ایک روز بعد سے گرفتار کیا گیا تھا اور ان گرفتاری اکتیس جنوری کو دکھائی گئی ہے۔اسی طرح دیگر لوگوں کی گرفتاری بھی اب ظاہر کی جا رہی ہے۔ اس حکم کے تحت حکومت کو بظاہر تین مہینے اور مل گئے ہیں۔ ڈاکر قدیر کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ حفاظتی تحویل میں ہیں۔ انہیں انتہائی حفاظت میں رکھا گیا ہے اور ان کے گھر پر بھی انتہائی سخت حفاظتی انتظامات ہیں۔ تاہم ان کی وہ سہولتیں ختم کر دی گئی ہیں جو انہیں اس قبل حاصل تھیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||