بریفنگ اور ڈی بریفنگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی اب تک کی تاریخ یہی ہے کہ فوج کے مرادانِ آہن نے ہمیشہ ملکی صورتِ حال لوگوں سے مخفی رکھ کر حکومت کی اور جمہوری حکومتوں نے بھی اپنے اقتدار کو اس آلودگی سے پاک کرنے کی کوئی خاص کوشش نہیں کی۔ گزشتہ بیس برس میں چہرہ چھپا کر کسی پر الزامات کی بوچھاڑ کر دینا ہر حکومت کا وطیرہ رہا ہے اور حیرت اس بات کی ہے کہ آج اس کا شکار بننے والے یعنی ڈاکٹر قدیر خان وہ ہیں جو کبھی سیاسی مخالف بھی نہیں کہلائے بلکہ جوہری بم بنانے پر انہیں قوم کا محسن کہا گیا۔ اس بات سے قطع نظر کہ حکومت غیر فوجی تھی یا فوجی، چھپ کر ایک حکمتِ عملی کے تحت وار کرنے کا ’زریں اصول‘ ماضی میں مسلسل استعمال ہوا ہے۔ اور جب اقتدار کی سرمستی میں لوگوں سے حالات چھپا کر رکھنے کا مزہ شامل ہوگیا تو اسے ایک غیر تحریری قانون کا درجہ بھی مل گیا۔ بنیادی اصول یہی رہا لیکن اگر حکومت بنظیر بھٹو کی آئی تو اس اصول کو غازے کی خوبصورتی میں چھپا دیا گیا اور اگر اقتدار نواز شریف کے ہاتھ آیا تو اسی اصول پر چمک کی چھاپ لگا دی گئی۔ فوج کے طرز عمل پر تبصرہ، خواہ اس کی نوعیت سیاسی ہی کیوں نہ ہو، ازل سے ہی گناہ کے زمرے میں داخل ہے لیکن جمہوریت پسندوں نے بھی عام آدمی تک درست اطلاع کا پہنچانا سنگین جرم بنا دیا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اگر اپنے کارنامے اجاگر کرنے کی ضرورت پڑ جاتی یا حزبِ مخالف کو رسوا کرنا نصب العین بن جاتا تو ریاست کے تمام وسائل بروئے کار لانا ریاست کی سب سے بڑی خدمت کا درجہ اختیار کر لیتا۔ ’بی بی‘ کے دور میں عوام کو اس لئے کچھ نہ بتایا جاتا کہ کہیں وزیرِ اعظم کی طبعِ نازک پر بار نہ گزرے لیکن حکومت کی بے نظیر کارگزاریاں لوگوں تک پہنچانے کے لئے وقت کے سقراط جن کے ڈانڈے کسی نہ کسی جگہ پہنچ کر طاقت کے اصل سرچشمے سے مل جاتے، اس کام کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے۔ جبکہ نواز شریف کے دور میں عوام کو آگاہ کرنے کی بجائے خصوصی تربیت یافتہ عالی دماغوں کا محبوب ترین مشغلہ مخالفین پر کیچڑ اچھالنا ہوتا۔ اور اگر کچھ چھپانا ضروری ہوتا تو اتنی احتیاط کی جاتی کہ شاید محمد رفیق تارڑ کو بھی اس بات کا علم بعد میں ہوا ہوگا کہ جناب نواز شریف نے انہیں اعلیٰ ترین منصب پر فائز کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ نواز حکومت کا اقتدار کیونکہ فوج کے دامانِ عاطفت میں پروان چڑھا تھا لہذا وہ اطلاعات چھپانے یا پھر غلط یا مسخ شدہ اطلاعات لوگوں تک پہنچانے میں بہت کامیاب رہی۔ اور کچھ اس طرح کہ اگر اپنی کارگزاری ظاہر کرنی ہوکھلے عام بریفنگ کردو لیکن اگر کسی کے سر سے پگڑی اتارنی ہو تو بیک گراؤنڈ بریفنگ کا طریقہ استعمال کر لو۔ بیک گراؤنڈ بریفنگ کا تصور کہیں سے بھی آیا ہو، گزشتہ بیس برس میں پاکستان میں ایک اصول کے طور پر رائج ہو چکا ہے۔ اس بریفنگ کے انداز بدلتے رہتے ہیں لیکن روح ہمیشہ سے ایک ہی رہی ہے۔ اس کے مختلف مظاہر مختلف حالات میں سامنے آتے رہتے ہیں اور اس کا بہترین مظاہرہ آج کل بھی جاری ہے۔ ڈّاکٹر قدیر خان اور ان کے ساتھی سائسندانوں نےجو بھی کیا وہ قابلِ بحث ہے لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی قابلِ بحث ہے کہ ایسا کیوں ہے کہ آئے دن کسی نہ کسی ذریعے سے اخبارات میں ایک منظم مہم چلائی جا رہی ہے اور کچھ نہ کچھ کہا جا رہا ہے۔ اور کہنے والے۔۔۔۔۔۔ صاف چُھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں کے اصول پر گامزن ہو کر ایک ایسے شخص کو رُسوا کر رہے ہیں جسے شاید خود انہوں نے ایسے ہی کسی طریقے سے آسمان پر چڑھایا تھا۔ آج کل ہر بیک گراؤنڈ بریفنگ میں ایک نیا شوشہ چھوڑا جاتا ہے۔ ان رازوں سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے جن پر پردہ ڈالنے کا فیصلہ بھی کسی بیک گراؤنڈ بریفنگ میں کیا گیا ہوگا صرف اس فرق کے ساتھ کہ اس وقت لکھاری آلہ کاروں کی شرکت ایسی کسی بریفنگ کے لئے ضروری نہیں تھی۔ جنرل پرویز مشرف کا برملا اعلان ہے کہ وہ کسی بات سے ڈرتے نہیں ہیں اور انہیں جو کہنا ہوتا ہے اسے کہنے کی جرآت رکھتے ہیں۔ چلیں مان لیا کہ جنرل صاحب خود ڈاکٹر قدیر کی ’خرابیوں‘ کا تذکرہ کسی سے نہیں کر رہے لیکن ان کی حکومت کا ایک حصہ سامنے آئے بغیر ایسا ضرور کر رہا ہے اور اسی طرح کر رہا ہے جیسے یہ کسی خاص حکمتِ عملی کا حصہ ہو۔ جنرل صاحب کی حکومت میں اخلاقی پستی کی ایسی مثال؟ خامہ انگشت بدنداں ہے اسے کیا لکھئیے ناطقہ سر بہ گریباں ہے اسے کیا کہئیے |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||