BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 February, 2004, 09:37 GMT 14:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ڈاکٹر قدیر نےاعترافی بیان نہیں دیا‘

قدیر خان
عیدالاضحیٰ کی رات ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد کے درمیان ٹیلی فون پر بات ہوئی ہے اور عبدالقدیر خان اس بات سے انکار کیا ہے کہ انھوں نے کسی تحریری بیان میں ایٹمی ٹیکنالوجی منتقل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

قاضی حیسن احمد اور ڈاکٹر قدیر خان کے درمیان ٹیلی فون پر رابط ہونے کا دعویٰ جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات امیرالعظیم نے کیا ہے۔

امیر العظیم نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ عید کی رات ساڑھے آٹھ بجے کے قریب قاضی حسین احمد نے ڈاکٹر عبدالقدیر کو ٹیلی فون کیا اور ان کی خیریت دریافت کی۔ اس بات چیت کے دوران انہوں نے حکومت کی طرف سے کئے گئے اس دعوی کی تردید کی کہ انہوں نے جوہری ٹیکنالوجی منتقل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

اس سے پہلے حکومت نے اس بات کا دعوی کیا تھا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایک بارہ صفحات پر مشتمل ایک تحریری بیان میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو ایٹمی ٹیکنالوجی منتقل کی تھی۔

جب سے ایٹمی سائنسدانوں کی ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی پر تفتیش شروع ہوئی ہے اور ڈاکٹر عبدالقدیر کو سخت حفاظتی پہرے میں لیا گیا ہے یہ ان کا کسی شخص سے پہلا رابطہ ہے۔

امیر العظیم کے بقول ڈاکٹر عبدالقدیر نے قاضی حسین احمد کو بتایا کہ انھوں نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے اور انھیں قوم کی دعاؤں کی ضرورت ہے۔

جماعت اسلامی کے رہنما کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے امیر جماعت اسلامی کو بتایا کہ وہ بالکل خیریت سے ہیں تاہم ان کی بیوی کی طبیعیت ٹھیک نہیں ہے اور انھیں ہائی بلڈ پریشر کی تکلیف ہوگئی ہے۔

قاضی حسین احمد نے ڈاکٹر عبدالقدیر کو اپنے تعاون کا یقین دلایا او رکہا کہ پوری قوم ان کے ساتھ ہے۔

جماعت اسلامی کے امیر نے جو ان دنوں متحدہ مجلس عمل کے قائم مقام امیر بھی ہیں، چھ فروری کو ملک میں ڈاکٹر عبدالقدیر کی تفتیش کے خلاف کاروبار بند رکھنے کے لیے عام ہڑتال کی کال دی ہوئی ہے۔

جماعت اسلامی کے ترجمان نے بتایا کہ آج قاضی حسین احمد اور پروفیسر غفور احمد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) سے ہڑتال میں شریک ہونے کی درخواست کریں گے۔

مجلس عمل کے رہنما آج تاجر تنظیموں کے نمائندوں سے بھی مل رہے ہیں تاکہ دکانیں اوربازار بند رکھنے میں ان کا تعاون حاصل کیا جاۓ۔

پاکستان میں پیر سے لے کر بدھ تک عید قربان کی چھٹیاں ہیں اور جمعرات کو پانچ فروی کے روز کشمیر سے یکجہتی کا دن منایا جاتا ہے اور عام طور پر کاروبار بند رہتا ہے۔

جمعہ کے روز بھی ملک کے بڑے شہروں کے علاوہ اکثر شہروں اور قصبوں میں ہفتہ وار تعطیل کی جاتی ہے۔ مجلس عمل کی ایٹمی سائنسدانوں کی تفتیش کے ممعاملہ پر ہڑتال کی کال سے اگر ملک کے بڑے شہروں میں بھی کاروبار مکمل بند ہوا تب ہی اسے مؤثر ہڑتال سمجھا جاسکے گا۔

چھ فروری کو اگر ہڑتال ہوئی تو یہ پاکستان میں ایٹمی سائنسدانوں کے معاملہ پر عوام کے احتجاج کا پہلا مظاہرہ ہوگا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد