BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 February, 2004, 15:46 GMT 20:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مشرف کو علم تھا‘
و
ڈاکٹرقدیر
امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈاکٹرقدیر کے ایک نامعلوم دوست کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستانی تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ جو کچھ بھی انہوں نے کیا اس کا علم ملک کے موجودہ فوجی سربراہ اور صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کو بھی تھا۔

واشنگٹن پوسٹ کے یہ خبر دینے والے پاکستانی صحافی کامران خان کا بھی کہنا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا مؤقف ہے کہ جو بھی کچھ وہ کرتے رہے ہیں وہ ملک کے تمام فوجی سربراہان اور حکومتوں کے علم میں رہا ہے۔

کامران خان کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان کی حکومت کا یہ بھی مؤقف ہے کہ لیبیا اور ایران سے براہ راست سائنسدانوں کو موصول ہونے والی بھاری رقوم گواہی ہیں کہ سائنسدانوں نے سب کچھ کیا ذاتی منفعت کے لیے کیا۔

امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ میں کامران خان اور ان کے ساتھی جان لینکاسٹر کے ہی حوالوں سے شائع ہونے والی خبر میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹرقدیر کے اس نامعلوم دوست کے مطابق ڈاکٹرقدیر نے تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ جو کچھ بھی وہ کررہے تھے اس کا علم صدر پرویز مشرف کو بھی تھا۔

بی بی سی اردو کے پروگرام ’سیر بین‘ سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی صحافی کامران خان نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کوئی بھی مؤقف سامنے نہیں آرہا ہے جو بھی اطلاعات آتی ہیں وہ پاکستانی تفتیش کاروں کے حوالے سے آتی ہیں یا پھر ان لوگوں کے حوالے سے آتی ہیں جنہوں نے حالیہ ہفتوں میں ان سے ملاقات کی ہے۔

کامران خان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے ملاقات کرنے والے ایسے ہی ایک ملاقاتی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ ان کی تمام کارروائی جو وہ گزشتہ پچیس برس میں کرتے رہے ہیں وہ تمام معلومات پاکستان کے تمام فوجی سربراہان کو ضرور رہی ہیں۔

کامران خان کے مطابق ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ وہ تمام فوجی افسران جو کے خان ریسرچ لیبارٹریز (کے آر ایل) سے منسلک رہے ہیں ان کو بھی تمام کارروائی، بات چیت اور کام کا علم رہتا تھا۔

کامران خان نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے خاص طور پر اس حوالے سے شمالی کوریا کیبات کی ہے اور ان کا (ڈاکٹر عبدالقدیر خان) کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ اس حوالے سے انیس سو چھیانوے سے انیس سو اٹھانوے تک پاک فوج کے سربراہ رہنے والے جنرل جہانگیر کرامت کے کردار کے بارے میں تحقیق کی جائے اور دیکھا جائے کہ کتنی ایسی کارروائی اور سرگرمیاں ہیں جو کے آر ایل میں ہوئی ہیں اور پاکستان کے فوجی سربراہان کے علم میں نہیں ہیں۔

کامران خان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے یہ بھی کہا ہے کہ جنرل ضیاءالحق سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک تمام لوگوں سے ان کے ون ٹو ون مراسم تھے اس بنیاد پر وہ دعویٰ کررہے ہیں کہ ان کے کام معلومات فوج کو مکمل طور پر تھی۔

ایک سوال کے جواب میں کامران خان نے کہا کہ حکومت کے پاس اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ سائنسدانوں کے جو بھی بینک کھاتے (اکاؤنٹ) منظر عام پر آئے ہیں ان ہی میں براہ راست پیسہ آیا ہے اس بنیاد پر حکومت کا مؤقف ہے کہ اگر حکومت اس چیز میں شامل ہوتی تو یہ پیسے ذاتی منفعت حاصل کرنے والے سائنسدانوں کے پاس نہ آتے بلکہ حکومت کے پاس آتے لیکن یہ پیسے جو بڑی بھاری رقوم ہیں، ایران اور لیبیا سے براہ راست سائنسدانوں کے اکاؤنٹس میں آئے ہیں اور یہ اس بات کی گواہی ہے کہ سائنسدانوں نے کام ذاتی منفعت کے لیے کیا۔

جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد کے اس مؤقف پر کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کوئی اعترافی بیان نہیں دیا، کامران خان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے پیرائے میں یہ دیکھنا ہوگا کہ اعترافی بیانات کافی مشکوک ہوتے ہیں اور وہ بیانات جو ان لوگوں سے لیے جائیں جو کے حکومت، پولیس یا خفیہ اداروں کے تحویل میں ہوں تو عدالتوں میں پہنچ کر ملعموم ان اعترافی بیانات سے انحراف ہی کردیا جاتا ہے اور ان کی تردید ہی ہوجاتی ہے۔

کامران خان نے کہا کہ خاص طور پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے حوالے سے جو اعترافی بیان سامنے آیا ہے اس میں دیکھنا یہ ہے کہ اس کی قانونی حیثیت کوئی نہیں ہے کیونکہ اب تک ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا اور کوئی مقدمہ قائم نہیں کیا گیا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد