دولت مشترکہ اور پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چار سال کے بعد دولت مشترکہ میں پاکستان کی رکنیت بحال کردی گئی ہے۔ پاکستان نے اپنی رکنیت کی بحالی کا خیر مقدم کیا ہے۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ رکنیت کی بحالی پاکستان کی اخلاقی فتح ہے ، جس کا انہیں کافی عرصے سے انتظار تھا۔ دولتِ مشترکہ میں پاکستان کی رکنیت انیس سو ننانوے میں جنرل مشرف کے حکومت پر قبضے کے بعد معطل کر دی گئی تھی۔ دولتِ مشترکہ کے وزراء کے ایکشن گروپ نے ایل ایف او کو سترہویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین کا حصہ بنانے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پاکستان میں جمہوریت کی طرف پیش قدمی، جمہوری اداروں اور انیس سو تہتر کے ترمیم شدہ آئین کی بحالی کا خیر مقدم کیا۔ آپ کے خیال میں کیا پاکستان کی رکنیت بحال کرنے کا دولت مشترکہ کا فیصلہ درست ہے؟ کیا جن وجوہات پر رکنیت معطل کی گئی تھی وہ اب تبدیل ہوگئی ہیں؟ آپ اپنی رائے اردو، انگریزی یا roman urdu mein bhi bhej سکتے ہیں
محمد کاشف بنگی، کویت: اجی بندر کے ہاتھ میں ادرک آئے یا ناریل، سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں ایک عام آدمی کے کیا حالات ہیں۔ مہنگائی کا بڑھ جانا، بیروزگاری کا طوفان، غربت کی ذلت، کون سی کم بختی ہے جو پاکستانی عوام کی قسمت میں نہ ہو۔ سچ تو یہ ہے کہ ’یہ ظلمت ہے، بشکلِ روشنی معلوم ہوتی ہے‘۔ اللہ ہماری قوم پر رحم کرے۔ چوہدری جمیل احمد خان، کمالیہ، پاکستان: پاکستان کے حق میں بہت اچھا فیصلہ ہے۔ ولید خان بنیر، کراچی، پاکستان: میرے خیال میں یہ اچھا فیصلہ ہے، باقی رہی بات جمہوریت کی تو ہمارے جمہوری نمائندوں نے کون سا کارنامہ سر انجام دیا ہے جو ہم فوجی جمہوریت سے بیزار ہوں۔ وقار احمد، ریاض، سعودی عرب: خواہ جمہوری طور پر منتخب نمائندوں کی حکومت ہو یا اوپر سے چنی گئی حکومت، پاکستان کے غریب عوام نے کبھی جمہوریت دیکھی ہی نہیں۔ لوگ ناامیدی اور غربت کی اسی سطح پر ہیں، جہاں تھے، اس لئے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم رکن ہیں یا نہیں۔ ہمیں اس کی رکنیت کی نہیں اصل جمہوریت کی ضرورت ہے۔ فیصل چانڈیو، حیدرآباد، پاکستان: یہ تو ہونا ہی تھا، یہ سب زمین کے ناخدا بن بیٹھے ہیں، جو ان کی مرضی کے مطابق چلے گا اس کے ساتھ ہوں گے، جو نہیں وہ دہشت گرد۔ یہ تنظیمیں صرف بڑے ممالک نے چھوٹے ممالک کو جھکانے کے لئے بنائی ہیں۔ نوراللہ میاں، لاہور: پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے۔ آزادی سے ہی اس پر فوج کی حکمرانی رہی ہے۔ جو عوام کے نمائندے تھے انہیں کرپشن کے نام پر اقتدار سے باہر پھینک دیا گیا ہے۔ ملک کے آئین کی کوئی عزت نہیں، فوجی حکومت ہے جس کے تحت جج صحیح فیصلہ نہیں کرپارہے ہیں۔ نوید اشرفت کویت: جمہوریت تو بحال نہیں ہوئی، بےشک جمالی صاحب سے پوچھ لیں۔ رکنیت بحال کرنے کی مہربانی گو کہ یہ سوچنا ہے کہ بدلے میں کیا دینا ہے۔
عطاء اللہ گلگتی، لاہور: دنیا کا مسئلہ جمہوریت یا آمریت نہیں ہے، یہ نام تو مفاد پرستوں کی سہولت کے لئے رکھے گئے ہیں۔ سلامتی کونسل ایک گدہوں کا اصطبل ہے جنہیں کوئی خوبصورت، مفاد پرست گدھا نظر آجائے تو ممبر بنالیا جاتا ہے۔ سلامتی کونسل ہو یا کوئی اور ادارہ، قوانین کی شخصی تشریح پر کسی بات کو اکسیپٹ یا رجیکٹ کیا جاتا ہے۔ آرین خان، ٹورانٹو: لو جی اب مشرف صاحب کی نام نہاد جمہوریت کو دولت مشترکہ نے بھی تسلیم کرلیا۔ اگر دولت مشترکہ کو مشرف برانڈ جمہوریت پسند ہے تو اپنے ملکوں میں اس کو کیوں درآمد نہیں کرتے؟ خالد خان، جرمنی: ہمیں دولت مشترکہ کی ضرورت ہی نہیں ہے، کیوں مرے جارہے ہیں ہمارے حکمران ان کے بغیر؟ محمد مشتاق، ہانگ کانگ: جب تک پرویز مشرف امریکہ کے آگے سر جھکاکر کرھیں گے تب تک سب کچھ ہوتا رہےگا۔ یہ سب چال ہے مشرف کی، کوئی کمال نہیں۔ اللہ کرے ہماری جان چھٹے ہمارے حکمرانوں سے۔ فیاض خان، پاکستان: پاکستان میں آرمی چیف کے صدر کی حیثیت سے موجودگی میں جمہوریت قائم نہیں ہو سکتی۔ سارے اداروں کے سربراہ سولینز کے بجائے ریٹائیرڈ فوجی ہیں۔ ان حالات میں آپ کیسے توقع کرتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت قائم ہو سکتی ہے؟ آفتاب احمد خشخیلی، بدین، پاکستان: میرا خیال ہے کہ آرمی امریکہ کے بہت قریب ہے اور یہ بہت بری بات ہے۔ اگر آرمی صدارت پر قبضہ چھوڑ دے تو بہت اچھا ہو گا۔ نثار خان، پاکستان: ایسا ہی ہونا تھا تو پھر چار سال معطل کیوں؟ اب کون سی جمہوریت ہے؟ جنید اقبال، امریکہ: مشرف کی صیہونیت نواز پالیسی اور خدمت کے نتیجے میں تحفے کے طور پر رکنیت ملی ہے ورنہ وزیر اعطم جمالی تو چھینک بھی جی ایچ کیو سے پوچھ کر مارتے ہیں۔
قیصر اقبال، چین: پاکستان کا مفاد اس میں ہے کہ اسکی رکنیت بحال ہو۔ اب جبکہ رکنیت بحال ہو گئی ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ جمہوریت صحیح چل رہی ہے کہ نہیں۔ عباس بھٹہ، ملتان: یہ ایک بہترین فیصلہ ہے۔ یہ حکومت کی حوصلہ افزائی کرے گا کہ وہ اچھی طرح کام کرے۔ ہمایوں طارق، متحدہ عرب امارات: یہ مشرف کو کچھ دیر اور استعمال کرنے کی تنخواہ دی گئی ہے۔ یعنی ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔ محمد ساجد، لاہور: ہوا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا، ورنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے۔ ہماری رکنیت بحال ہونے میں جمہوریت سے زیادہ غیر جمہوری صدر کی بندہ پروری کا عمل دخل ہے۔ کامران اکبر، مانٹریال: پاکستان میں اب جمہوریت ہے اور جمہوری عمل کی طرف پیش قدمی ہورہی ہے۔ ابھی یہ ابتدائی مراحل ہیں اور اگر فوج اپنے آپ کو حکومت سے الگ رکھے اور جمہوریت کو پروان چڑھنے دے تو یہ پاکستان اور اس کے عوام کے لئے بہتر ہوگا۔ جہانگیر احمد، دوبئی: یہ کوئی کارنامہ نہیں ہے جو مشرف حکومت کو حاصل ہوا ہے بس پوری دنیا میں ہی ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ کا قانون نظر آتا ہے۔ پہلے بھی یہی حکومت تھی، اب بھی یہی حکومت ہے۔
وسیم منظور، نیو یارک: پاکستانی ہونے کے ناطے میں دولت مشترکہ کی رکنیت بحال کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہوں۔لیکن اگر دولت مشترکہ کی انتظامیہ یہ سمجھتی ہے کہ یہ جمہوریت بحال ہونے کی وجہ سے ہے تو اس سے بڑا لطیفہ اور کچھ نہیں! ارشد احمد عمر، فِن لینڈ: بہت مبارک ہو پاکستان کو! پرویز صاحب کو چاہئے کہ قاضی حسین احمد اور پی پی پی پر پاکستان سے غداری کا کیس بنائیں۔ محمد راشد، کینیڈا: یہ افسوسناک فیصلہ ہے۔ پاکستان میں اب بھی فوجی ڈِکٹیٹرشِپ ہے اور فوج ہی حکمران ہے۔ سیاست دانوں پر ابھی دباؤ ہے اور سیاسی جماعتیں بری حالات میں ہیں۔ قابل قبول لیڈر اب بھی ملک سے باہر ہیں۔ مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ دولت مشترکہ نے یہ فیصلہ کیوں کیا۔ عاشق حسین، مکہ: یہ درست فیصلہ ہے۔ ہم اس رکنیت کے اہل ہیں۔ اور یہ سب کچھ ہمارے صدر جنرل مشرف کی مخلصانہ کوششوں کی نتیجہ ہے۔ عثمان علی، کینیڈا: اس فیصلے سے دولت مشترکہ کا چہرہ واضح ہوگیا ہے۔ اس ادارے کو جمہوریت اور حقوق انسانی کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ یہ سب کچھ اس لئے رچایا گیا ہے کہ جنرل مشرف ان کی تابعداری کریں۔ جنرل مشرف اور ان کے لوگ پاکستان میں جو کھیل کھیل رہے ہیں وہ جمہوریت کی جانب کسی بھی طرح پیش قدمی نہیں ہے۔ جاوید خواجہ، امریکہ: پاکستان کو اچھی طرح دم ہلانے کا انعام ملا ہے۔ م حق، لاہور: دولت مشترکہ نے پاکستان کی رکنیت پرویز مشرف کی اسلام مخالف سازشوں میں مکمل طریقے سے ساتھ دینے کی وجہ سے بحال کی ہے۔
عدنان راجہ، لندن: مغربی طاقتوں کے ڈبل سٹنڈرڈ کا یہ ایک اور مظاہرہ ہے اور وہ دنیا کے ہرممالک میں اپنی طرح کی جمہوریت چاہتے ہیں۔دوسری جانب مشرف کی طرح کی فونی جمہوریت کی حمایت کرتے ہیں۔ وہ صرف مشرف کو اقتدار میں دیکھنا چاہتے ہیں، پاکستان کی ترقی میں ان کی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ شفیق اعوان، لاہور: وردی والے کو اب ضمیر کی آواز سننی چاہئے۔ راحت ملک، پاکستان: رکنیت بحال کرنے کے لئے راہیں تو بہت پہلے سے ہی ہموار ہوچکی تھیں لیکن صاحب بہادر لوگوں نے کافی دیر کردی۔ علی رضا علوی، اسلام آباد: ایک پاکستانی صحافی ہونے کے ناطے خوشی ہوئی کہ رکنیت بحال ہوگئی۔ ایک چینل پر میں نے خود بھی اس کی تعریف کی لیکن سب کو معلوم ہے کہ پاکستان میں کتنی جمہوریت ہے۔ عمر فاروق، برمِنگھم: حالات کے تبدیل ہونے کا کیا مطلب؟ کیا پاکستان میں کبھی حالات تبدیل ہوئے ہیں؟ گزشتہ پانچ عشروں میں؟ یہ تو دولت مشترکہ اور مغربی ممالک کی بندہ پروری ہے۔ شیر یار خان، سنگاپور: دولت مشترکہ میں پاکستان کی رکنیت بحال کرنے کا فیصلہ بالکل صحیح وقت پر کیا گیا ہے کیونکہ اس وقت پاکستان میں وہ حالات نہیں ہیں جو کہ پابندی لگنے کے وقت تھے۔ پاکستان کی موجودہ حکومت کو دنیا کی کسی حکومت نے تنقید کا نشانہ نہیں بنایا اور خاص طور پر بھارت کی حکومت بھی پاکستان سے بہتر تعلقات قائم کررہی ہے۔
انجینیئر این نظیر، کراچی: ایک فوجی حکومت کو خدمت پر ٹِپ تو دینا تھا، لیکن یہ وردی پر ایک مشروط ٹِپ ہے۔ فراض علی، ابوظہبی: ہم سب کے لئے یہ اصل فتح ہے۔تمام پاکستانیوں کو مبارکباد۔ امین علی، کراچی: دولت مشترکہ بھی ایک ایسا ادارہ ہے جیسا کہ اقوام متحدہ ایک کٹھ پتلی۔ ویسے بھی دنیا میں ڈیموکریس ناکام ہوگئی ہے۔ جن جن ممالک میں ڈیموکریس ہے وہاں کا حال سب کے سامنے ہے۔ ڈیموکریسی صرف نام کی حد تک ہے اور یہ دنیا کے امیر ترین ممالک پاکستان جیسے غریب ممالک کا مزاق بنادیتے ہیں، کبھی رکنیت دیکر اور کبھی رکنیت چھین کر۔ طارق عزیز، جھنگ: دولت مشترکہ کا یہ یہ صحیح فیصلہ ہے۔ التمش خان: اب ہمیں جمہوریت کی ایک نئی ڈیفینیشن مل گئی ہے! اسے سمجھنے کے لئے ریٹائرڈ جنرل اور دہشت گردی کے خلاف انڈو۔امریکن ایکسِس پر توجہ دینا ضروری ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||