BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 October, 2004, 08:19 GMT 13:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وردی کے حق میں بل منظور

جنرل مشرف نے آرمی چیف کا عہدہ چھوڑنے کا وعدہ کیا تھا
جنرل مشرف نے آرمی چیف کا عہدہ چھوڑنے کا وعدہ کیا تھا
حکومتِ پاکستان نے قومی اسمبلی سے صدر کے دو عہدے رکھنے کے متعلق بل حزب اختلاف کے شدید احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے دوران اکثریت رائے سے منظور کروا لیا ہے۔

حزب اختلاف نے سپیکر پر قواعد کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر دی ہے۔

جمعرات کی صبح اجلاس شروع ہوا تو وقفہ سوالات کے بعد بل پر بحث ابھی باقی تھی کہ پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیر افگن نے سپیکر چودھری امیر حسین سے کہا کہ بہت تقریریں ہو چکیں اب وہ صدر کے دو عہدے رکھنے کے متعلق بل پر کارروائی شروع کریں۔

سپیکر نے دوسری اور تیسری خواندگی دو منٹ سے بھی کم وقت میں مکمل کراتے ہوئے بل منظور کرنے کی تحریک پیش کی جو اکثریت رائے سے منظور ہوگئی۔

محمود خان اچکزئی اور اعتزاز احسن سمیت سینیئر پارلیمینٹیرین بھی سپیکر کے اس رویے پر شدید غصے میں آگئے اور اچکزئی سپیکر کی ڈائیس پر پہنچ گئے اور ان کے آگے رکھا ہوا پی ٹی وی کا مائیک گرا دیا۔

حزب اختلاف نے بل کی منظوری کی مکمل کارروائی کو غیر قانونی قرار دینے کا مطالبہ کیا لیکن سپیکر نے ان کا مطالبہ مسترد کر دیا۔

حزب اختلاف کے تمام اراکین سپیکر کے جلد بازی میں بل منظور کرانے کے طریقہ کار کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ’گو مشرف گو‘ کے نعرے لگاتے رہے اور سپیکر کو بھی برا بھلا کہتے رہے۔

حزب اختلاف کے اراکین دیکھتے ہی دیکھتے نشستیں چھوڑ کر سپیکر کے آگے جمع ہوگئے اور سخت نعرے بازی کرتے رہے۔

متحدہ مجلس عمل کے رہنما لیاقت بلوچ نے الزام لگایا کہ سپیکر نے انتہائی جانبداری کا ثبوت دیا اور قواعد کی خلاف ورزی بھی کی ہے لہٰذا انہوں نے سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کر دی ہے۔

قومی اسمبلی سے منظور کردہ یہ بل اب ستائیس اکتوبر کو طلب کردہ ایوان بالا یعنی سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد جب صدر جنرل پرویز مشرف اس بل پر دستخط کریں گے تو یہ ایکٹ آف پارلیمینٹ بن جائے گا اور جب تک صدر کے عہدے پر جنرل پرویز مشرف ہیں اس وقت تک وہ آرمی چیف کا عہدہ بھی رکھ پائیں گے۔

حکومت نے یہ بل بدھ کی شام شیڈول سے ہٹ کر اچانک قومی اسمبلی کا اجلاس بلا کر منظور کرانے کی کوشش کی تھی لیکن حزب اختلاف کی جانب سے شدید احتجاج کی وجہ سے بل منظور نہیں ہوسکا اور اجلاس کی کارروائی جمعرات تک ملتوی کردی گئی۔

بدھ کے روز ایجنڈے پر وقفۂ سوالات بھی نہیں رکھے گئے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں نے شیڈول کے برعکس اجلاس بلانے اور وقفہ سوالات ایجنڈے پر نہ لانے کے خلاف سخت احتجاج کیا لیکن سپیکرنے ان کا احتجاج مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں جو کچھ نے کیا اس کا انہیں اختیار حاصل ہے۔

بدھ کے روز بھی قومی اسمبلی میں حزب اختلاف نے سخت احتجاج کرتے ہوئے نو مشرف نو اور گو مشرف گو کے نعرے لگائے تھے۔

ایک موقع پر جب مجلس عمل کے اراکین روسٹرم کے آگے احتجاج کر رہے تھے تو پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید احمد شاہ نے انہیں کہا تھا کہ وہ نشستوں پر کھڑے ہوکر احتجاج کریں۔ جس پر خافظ حسین احمد اور خورشید شاہ کے درمیاں کھینچا تانی اور گرما گرمی اور تلخی بھی ہوئی تھی لیکن بعد میں حافظ حسین احمد اور مجلس عمل کے دیگر رہنماؤں نے خورشید شاہ سے معذرت کر لی تھی۔

حزب اختلاف کے رکن اسمبلی چودھری اعتزاز احسن نے بدھ کے روز اپنی تقریر میں اس بل کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے حکومتی بینچوں پر بیٹھنے والوں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ پارلیمان کے وقار کو مجروح نہ کریں۔

ایک موقع پر چودھری نثار علی خان اور اعجاز الحق میں نوک جھونک چلتی رہی اور نثار علی خان کا کہنا تھا کہ ایک فوجی افسر کو ملک کا صدر بنانے کی نئی روایت ڈالنے کا بل جمہوریت کے لیے خطرناک عمل ہے۔

قاضی حسین احمد نے کہا کہ انہوں نے فوج کو سیاست سے نکالنے کے لیے واپسی کا محفوظ راستہ دینے کے لیے سمجھوتہ کیا جس کے نتیجے میں سترویں آئینی ترمیم کا بل منظور کرایا، لیکن انہیں آج افسوس ہو رہا ہے جب صدر جنرل پرویز مشرف قوم سے کیے گئے وعدے کے مطابق اکتیس دسمبر سن دو ہزار چار تک فوجی وردی نہیں اتار رہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ جنرل پرویز مشرف کو کمال اتا ترک بننے نہیں دیں گے اور ان کے خلاف پارلیمان کے بجائے گلیوں اور سڑکوں پر احتجاج کے لیے نکلیں گے۔

انہوں نے صدر کے وردی نہ اتارنے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت اور مجلس عمل میں مذاکرات کے متعلق ’ڈائیلاگ‘ کے عنوان سے کتاب لکھی ہے جس میں علامہ اقبال کا یہ شعر بھی درج ہے کہ:

بیچارہ پیادہ تو ہے اک مہرہ ناچیز
فرزین سے بھی پوشیدہ ہے شاطر کا ارادہ

قاضی کے مطابق فرزین سے مراد وزیراعظم جمالی، پیادہ غالباً خود ایس ایم ظفر اور شاطر سے مراد جنرل پرویز مشرف ہیں۔

اعتزاز احسن اور قاضی حسین احمد نے وزیراعظم شوکت عزیز کے متعلق طنزیہ جملے بھی کہے۔ ایک موقع پر اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ ایسے وزیراعظم ہیں کہ اپنے وزراء تو دور کی بات عملے کے لوگوں کو بھی نہیں پہچانتے۔

اعتزاز احسن نے دعویٰ کیا کہ ایک شخص کو انہوں نے انتخابات کے موقع پرگلے لگا کر کہا کہ آپ کی مہربانی آپ دور سے ملنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق اس شخص نے شوکت عزیز کے کان میں کہا کہ وہ ان کے ڈرائیور ہیں۔

قاضی حسین احمد نے وزیراعظم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جب یہ باہر نکلتے ہیں سڑکیں بند کر دی جاتی ہیں اور لوگ انہیں برا بھلا کہتے ہیں۔ ان کے اس جملے کی کچھ دیر بعد وزیراعظم ایوان سے چلے گئے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد