BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 29 November, 2004, 18:27 GMT 23:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اب افسروں کو جواب دینا ہوگا

News image
قومی اسمبلی میں عوامی مسائل کے حل کے لیے قرارداد منظور ہوگئی ہے
وفاقی حکومت کے افسران کو عوامی مسائل کے بارے میں پارلیمینٹیرینز کے خطوط اور سفارشات پر کارروائی کرنے اور پارلیمینٹ ہاؤس کے باہر بینر یا ہورڈنگ لگانے پر پابندی کے متعلق پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ نے پیر کے روز متفقہ طور پر دو قرار دادیں منظور کرلیں۔

ایوان میں نجی کارروائی کے دن کے موقع پر حکومتی سینیٹر انور بھنڈر نے قرار داد پیش کی کہ وفاقی حکومت کے ملازمین کو پارلیمان کے اراکین عوامی مسائل کے متعلق سفارشات کے بارے میں جو بھی خط لکھیں گے اس پر کارروائی لازمی کی جائے گی۔

ان سفارشات پر عملدرآمد نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ رکن کو متعلقہ افسر تحریری طور پر جواب دینے کا پابند ہوگا، جس میں وجوہات بتانا ہوں گی کہ عمل کیوں نہیں ہوا؟

ایک اور حکومتی سینیٹر خالد رانجھا کی سفارش پر اس قرار داد میں ایک جملے کا اضافہ کرتے ہوئے متعلقہ افسر کو اکیس دن کے اندر جواب دینے کا پابند کیا گیا۔

حکومت تمام وفاقی ملازمین کو خط لکھ کر اس قرار داد سے آگاہ کرتے ہوئے عمل کرنے کی ہدایت کرے گی۔ حکومتی اراکین کا کہنا تھا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے جب معزز اراکینِ پارلیمان کسی افسر کو کوئی خط لکھتے ہیں اس پر ایک تو کارروائی نہیں کی جاتی اور بتایا بھی نہیں جاتا کہ کیوں عمل نہیں ہوا۔

دوسری قرار داد حزب اختلاف کی جانب سے رضا ربانی نے پیش کی جو پارلیمینٹ ہاؤس اور لاجز کے باہر کسی بھی جماعت، ادارے یا فرد کی جانب سے کسی قسم کا کوئی بینر، پوسٹر یا ہورڈنگ لگانے پر پابندی سے متعلق تھی۔

اس قرارداد میں قائد ایوان وسیم سجاد نے کہا کہ اس میں ترمیم کرتے ہوئے یہ فقرہ شامل کیا جائے کہ اس پابندی کا اطلاق کسی غیرملکی سربراہ کو خیر مقدم کرنے یا یومِ پاکستان یا یوم آزادی جیسی حکومتی تقریبات کے متعلق لگائے جانے والے بینر پر نہیں ہوگا۔

حکومتی ترمیم کے بعد متفقہ طور پر یہ قرار داد بھی منظور کرلی گئی۔ رضا ربانی کے مطابق اس قرار داد کا مقصد پارلیمان کا وقار برقرار رکھنا ہے۔

یاد رہے کہ چودھری شجاعت حسین اور بعد میں شوکت عزیز کے وزیراعظم بننے کے بعد ان کی بڑی بڑی تصاویر والے ہورڈنگ اور بینر لگائے گئے تھے۔ ماضی میں بھی بسا اوقات حکمران جماعتیں ایسا کرتی رہی ہیں۔

سینیٹ کے اجلاس کی کارروائی اب منگل کی شام پانچ بجے دوبارہ ہوگی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد