BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 18 October, 2004, 16:36 GMT 21:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وردی کے خلاف احتجاج جاری

صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف
صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف
پاکستان کی قومی اسمبلی میں متحدہ حزب اختلاف نے صدر جنرل پرویز مشرف کے فوجی وردی میں رہنے کے متعلق بل کی منظوری کے خلاف پیر کے روز بھی اپنے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا۔ لیکن اس بار اپوزیشن کا احتجاج پارلیمان کے اندر تک ہی محدود رہا اور جمعہ کے روز کی طرح وہ سڑک پر باہر نہیں آئے۔

حزب اختلاف نے کارروائی میں حصہ نہیں لیا اور کچھ دیر احتجاج کرنے اور اپنی نشستیں چھوڑ کر سپیکر کے سامنے’گو مشرف گو‘ کے نعرے لگانے کے بعد ایوان سے باہر چلے گئے۔

وزیراطلاعات نے پریس، اخبارات، خبر رساں ایجنسیوں اور کتابوں کی رجسٹریشن کے آرڈیننس کا بل پیش کیا جس کا مقصد ان کے مطابق اسلام آباد میں کسی اخبار یا جریدے وغیرہ کی اشاعت کی منظوری کا اختیار ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو دینا بتایا گیا ہے۔

وزیر نے کہا کہ چونکہ اسلام آباد میں اب تک بلدیاتی نظام قائم نہیں ہوا اور ڈسٹرکٹ کو آرڈینیٹر آفیسر (ڈی سی او) تعنیات نہیں ہوا اس لیے یہ اختیار پرانے نظام کے تحت متعلقہ افسر کے پاس ہی رہنا چاہیے۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ باقی اضلاع میں یہ اختیار’ڈی سی او‘ کے پاس ہی رہے گا۔

جبکہ توہین عدالت کے متعلق عدالتوں کی طرف سے سزا دینے کے اختیارات کو منضبط کرنے کا بل بھی منظور کرایا گیا۔ اس بل کی منظوری سے توہین عدالت کا پرانا قانون ختم ہوجائےگا اور اس قانون میں سزاؤں کی میعاد میں کچھ اضافہ کیا گیا ہے۔

پیر کے روز وزیرداخلہ آفتاب احمد شیرپاؤ کی جانب سے پیش کردہ انسداد دہشت گردی ایکٹ مجریہ 1997 میں ترمیم کا بل بھی حکومت نے یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے اکثریت رائے سے منظور کرایا۔ اس بل کا مقصد حکومت کے مطابق دہشت گردی بالخصوص عبادت گاہوں اور عدالتی احاطوں کے اندر بم دھماکے کرنے والوں اور اغوا برائے تاوان کے جرائم میں ملوث ملزمان کو دہشت گردی کے قانون کے دائرہ کار میں لانا ہے۔

مجوزہ ترمیمی بل کے مطابق ٹرائل کورٹ زیادہ سے زیادہ دو مرتبہ جبکہ اپیل کورٹ ایک سے زائد مرتبہ کسی بھی مقدمے کی سماعت ملتوی نہیں کر سکیں گے۔ اگر ملزمان کے وکلاء مقررہ مدت سے زیادہ بار التویٰ مانگیں اور عدالت میں حاضر نہ ہوں تو اس صورت میں حکومت ریاست کے خرچ پر وکیل دفاع مقرر کرتے ہوئے مقدمے کا فیصلہ سنانے کی پابند ہوگی۔

بل میں کہا گیا ہے کہ ان ترامیم کا مقصد ملک میں بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات باالخصوص عبادت گاہوں پر بم حملوں کو روکنا اور فوری سماعت کرکے ملزمان کو سزائیں دینا ہیں۔ اس بل کے مطابق کسی بھی صوبے کی کسی بھی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں اگر مقدمے کی سماعت میں سکیورٹی کا معاملہ درپیش ہو تو وفاقی حکومت کسی بھی صوبے کی کسی بھی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ منتقل کر سکتی ہے۔ ایسی صورت میں ریکارڈ کی گئی گواہی دوبارہ ریکارڈ کرنا ضروری نہیں ہوگا۔

حزب اختلاف کے رہنماؤں نے حکومت کی جانب سے یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے قانون سازی کے متعلق مختلف بلوں کی منظوری کو غیرقانونی اور یکطرفہ قرار دیتے ہوئے ان پر تنقید کی۔ بعض اراکین نے خدشہ ظاہر کیا کہ انسداد دہشت گردی کے بل میں کی جانے والی ترمیموں کو حکومت سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرسکتی ہے۔

پارلیمان کی لابی میں ایوان کی کارروائی کے غیر اعلانیہ بائیکاٹ کے بعد اتحاد برائے بحالی جمہوریت اور متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وہ قومی اسمبلی کی نشستوں سے مستعفی ہوکر حکومت کے لیے کھلا میدان نہیں چھوڑنا چاہتے۔ قاضی حسین احمد، چودھری نثار علی خان، شاہ محمود قریشی اور دیگر کا کہنا تھا کہ حکومتی اراکین نے صدر کے دو عہدے رکھنے کے متعلق بل منظور کرا کے پارلیمان کا وقار مجروح کیا ہے اور وہ اس کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔

پیر کی صبح جیسے ہی اجلاس شروع ہوا تو حکومتی بینچوں پر خاصی کم تعداد میں اراکین بیٹھے تھے اور تلاوت کے بعد جیسے ہی سپیکر نے کارروائی چلانا چاہی تو حزب اختلاف کے رکن حنیف عباسی نے کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی کر دی۔ سپیکر نے گنتی کرائی تو کورم پورا نہیں تھا اور انہوں نے اجلاس کی کارروائی معطل کردی جو ڈیڑھ گھنٹے تک معطل رہی۔

یاد رہے کہ حکومتی بینچوں پر بیٹھنے والے اراکین کی تعداد ویسے تو ایک سو پچانوے سے بھی زیادہ ہے لیکن کورم کے لیے مطلوبہ تعداد یعنی چھیاسی اراکین بھی ایوان میں موجود نہیں تھے۔

اجلاس میں سرکاری اراکین کی عدم موجودگی کے متعلق حزب اختلاف کا دعویٰ ہے کہ کئی اراکین کو وزیر بنانے کا آسرا دیا گیا تھا اور انہیں وزیر نہ بنائے جانے کے بعد کئی اراکین حکومت سے ناراض ہیں۔ حزب اختلاف کے ایسے دعووں کو پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن نیازی نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی بینچوں میں مکمل اتحاد ہے اور کوئی اختلاف رائے نہیں پایا جاتا۔

ایک موقع پر جب حزب اختلاف کے اراکین سپیکر کے روسٹرم کے آگے نعرے لگا رہے تھے تو ڈاکٹر شیرافگن خان نیازی نے سپیکر سے کہا کہ وہ ان کے خلاف تحریک اسحقاق پر کارروائی کریں اور ان کے ایوان میں داخلہ پر پابندی عائد کریں۔ سپیکر نے کہا کہ رمضان کا مہینہ ہے اس لیے ان سے رعایت کرنی چاہیے۔ اب اسمبلی کا اجلاس منگل کی صبح ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد