سنگین غداری پر نیا بِل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد’متحدہ مجلس عمل‘ کے رہنما قاضی حسین احمد نے قومی اسمبلی میں سنگین غداری کرنے والوں کو سزا دینے کے متعلق قانون میں ترمیم کا بل پیش کر دیا ہے۔ منگل کے روز ایوان میں نجی کارروائی کا دن تھا۔ جب قانون سازی کا یہ بل حزب اختلاف نے پیش کیا حکومت نے اس کی مخالفت کی۔ جس پر سپیکر نے بل پر بحث آئندہ نجی کارروائی کے دن تک ملتوی کر دی۔ قاضی حسین احمد کے مطابق اس بل کا مقصد سنگین غداری کرنے والوں کے خلاف عام آدمیوں کو عدالت میں درخواست دائر کرنے کا حق دینا ہے کیونکہ اب تک صرف حکومت کو ہی یہ استحقاق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی شق چھ کے مطابق آئین توڑنا سنگین غداری کرنے کے مترادف ہے لیکن آج تک کسی کے خلاف بھی کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا۔ جس کی وجہ ان کے بقول کارروائی کا حق صرف اور صرف حکومت کو حاصل ہونا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے کنور خالد یونس نے کہا کہ اس بل کا اطلاق پہلے مارشل لاء لگانے والوں سے ہونا چاہیے کیونکہ مجلس عمل موجودہ حکمرانوں کو ٹارگٹ بنانا چاہتی ہے۔ جس پر سپیکر نے انہیں مزید بات کرنے سے روک دیا۔ لیاقت بلوچ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کا مقصد کسی مخصوص شخص کو ٹارگٹ بنانا نہیں بلکہ ان تمام لوگوں کو سزا دلوانا ہے جو آئین توڑنے کے مرتکب ہوں۔ یہ بل ایسے موقع پر پیش کیا گیا ہے جب ایک فوجی سربراہ آئین معطل کرنے کے بعد ملک کے سربراہ بنے اور آج ان کے اقتدار کو پانچ برس پورے ہو رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بھی اس سے ملتا جلتا ایک بل ایوان بالا (سینیٹ) میں پیش کر کھا ہے۔ منگل کے روز قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز کی خاتون رکن شیری رحمٰن نے سرکاری معلومات تک عام آدمی کی رسد یقینی بنانے کے بارے میں قانون سازی کے لیے بل پیش کیا۔ پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیر افگن نے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں پہلے ہی حکومت نے قانون بنا رکھا ہے۔ شیری رحمٰن کا دعویٰ تھا کہ حکومت نے اس معاملے پر قانون سازی نہیں کی، لیکن حکومت کی مخالفت کے بعد اکثریتِ رائے کی بنا پر یہ بل مسترد کر دیا گیا۔ حزب اختلاف کے اراکین نے، جن میں خواجہ آصف، راجہ پرویز اشرف، لیاقت بلوچ اور حافظ حسین احمد شامل تھے، علیحدہ علیحدہ سیالکوٹ، ملتان اور لاہور میں حالیہ بم دھماکوں اور چینی انجنیئرز کے اغوا کے معاملات پر بحث کے لیے تحاریک التویٰ پیش کیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||