’سکیولر‘ حکومتی اقدامات پر احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں مذہبی جماعتوں کے ایک اتحاد متحدہ مجلس عمل کے سربراہ اور جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمدنے اعلان کیا ہے کہ متحدہ مجلس عمل پاکستان کو ایک سیکولر ریاست بنانے کی کوششوں کے خلاف جماعتہ الدعوۃ کے ساتھ مل کر جدوجہد کرے گی۔ وہ چودہ اگست کی شام لاہور میں مرکز جماعتہ الدعوۃ کے زیرا ہتمام ہونے والے ایک جلسہ سے خطاب کر رہے تھے۔ یہ جلسہ پہلے مینار پاکستان پر منعقد ہونا تھا لیکن حکومت نے صرف دو روز قبل جماعتہ الدعوۃ کو دی گئی اجازت منسوخ کر دی جس کے باعث یہ جلسہ چوبرجی چوک پر جماعت الدعوۃ کے زیر اہتمام چلنے والے مرکز القادسیہ کے سامنے ہوا تھا۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ پاکستان میں غیر ملکی افواج نے اڈے قائم کر لیے ہیں اور غیر ملکی طاقتوں کے کہنے پر وزیرستان میں اپنی ہی افواج کے ذریعے اپنے ہی عوام پر گولیاں چلائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دین کی خاطر قربانی دینے والوں کو جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے اگر وردی اتارے جانے کے اپنے وعدے کی پاسداری نہیں کی تو بقول انکے انہیں صدر اور چیف آف آرمی سٹاف دونوں عہدوں پر نہیں رہنے دیا جائےگا۔ مرکز الدعوۃ کے امیر حافظ سعید نے کہاکہ کشمیر کا بقول ان کے جہاد ، دہشت گردی نہیں ہے بلکہ تکمیل پاکستان کی جدو جہد ہے جو جماعتہ الدعوۃ کرتی رہے گی۔ مرکز جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید پہلے لشکر طیبہ کے امیر ہوا کرتے تھے حکومت پاکستان نےاس تنظیم کو کالعدم قرار دیدیا تھا حافظ سعید نے کالعدم قرار دیے جانے سے قبل ہی لشکر طیبہ کو چھوڑ کر مرکزالدعوۃ بنا لی تھی اس تنظیم کو بھی حکومت نے اپنی واچ لسٹ پر رکھا ہوا ہے۔ لشکرِطیبہ کشمیر میں مبینہ طور پر عسکری کارروائیوں میں ملوث بتائی جاتی ہے اور بھارت نے اپنی پارلیمان پر حملے میں بھی اسی تنظیم کو ملوث قرار دیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||