قاضی کی باجوڑ میں داخلے پر پابندی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام نے اتوار کومتحدہ مجلس عمل کے رہنما قاضی حسین احمد کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ قاضی حسین ایجسنی کے صدر مقام خار میں قبائلی قوانین ایف سی آر کے خلاف ایک جلسے سے خطاب کرنا تھا۔ قاضی حسین احمد کو اتوار کی صبح اپنے سینکڑوں کارکنوں کے ہمراہ دیر سے باجوڑ جاتے ہوئے میاں کلی کے مقام پر مقامی انتظامیہ کے اہلکاروں نے روک دیا۔ اس موقعہ پر حکام نے انہیں سرکاری فیصلے سے آگاہ کیا کہ قبائلی علاقوں میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی ہے لہذا وہ جرگے سے خطاب کے لئے باجوڑ داخل نہیں ہوسکتے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ انہیں ان جلسوں سے امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کا خدشہ ہے جس کی وجہ سے یہ پابندی لگائی گئی ہے۔ کافی تکرار کے بعد قاضی حسین احمد نے اسی مقام پر احتجاجی جلسے سے حکومت مخالف نعروں کے شور میں خطاب کیا۔ انہوں نے حکومتی فیصلے کو آزادی اظہار کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ وہ ایف سی آر جیسے کالے قوانین کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے سرکاری فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے واضع کیا کہ ایک ملک میں دو قانون نہیں چلنے دیے جائیں گے۔ قاضی حسین احمد کے خار میں جلسہ عام میں شرکت کے اعلان کے بعد باجوڑ جانے والے تمام راستوں پر خاصہ داروں کی بھاری تعداد تعینات کر دی گئی تھی۔ جماعت اسلامی کے ناقدین قاضی حسین احمد کی جانب سے سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کے باوجود اس جلسے کے باجوڑ میں انعقاد کو ذرائع ابلاغ کی توجہ حاصل کرنے کی ایک کوشش قرار دے رہے ہیں۔ اس کے جواب میں جماعت کا کہنا ہے کہ یہ جلسہ اس کی قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے لئے جاری تحریک کا حصہ ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||