قاضی حسین بھی کراچی بدر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد کو کراچی سے اسلام آباد روانہ کر دیا گیا ہے۔ قاضی حسین احمد اتوار کو متحدہ مجلس عمل کی جانب سے کیے جانے والے امن مارچ میں شرکت کے لیے پشاور سے کراچی پہنچے تھے۔ تاہم ان کو ایئرپورٹ سے باہر نہیں نکلنے دیا گیا اور شاہین ایئرلائین کی پرواز 201 کے ذریعے اسلام آباد بھیج دیا گیا۔ متحدہ مجلس عمل کی جانب سے کراچی میں گزشتہ دو ماہ کے دوران ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے اتوار کی شام پانچ بجے امن مارچ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ قاضی حسین احمد کی کراچی آمد کے موقع پر مجلس عمل کے سندھ اسمبلی کے اراکین اور دیگر مقامی رہنماؤں سمیت کارکنوں نے ایئرپورٹ پر دھرنا دیا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ ایئرپورٹ پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی بڑی تعداد کو تعینات کیا گیا تھا۔ امن مارچ مزار قائد سے ٹاور تک کیے جانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ تاہم شہر کی انتظامیہ کی جانب سے راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کر دیں گئیں اور علاقے میں پولیس اور رینجرز کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ کراچی کی مقامی حکومت نے شہر میں دفعہ 144 نافذ کی ہوئی ہے۔ پولیس نے مجلس عمل کے رہنما منور حسن سمیت بڑی تعداد میں کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس حکام تعداد کی تصدیق تو نہیں کر رہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ گزشتہ شب متحدہ مجلس عمل کے سکریٹری جنرل مولانا فضل الرحمٰن کو بھی کراچی ایئرپورٹ سے اسلام آباد واپس بھیج دیا گیا تھا۔ وہ بھی امن مارچ میں شرکت کے لیے یہاں پہنچے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||