BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 May, 2004, 06:48 GMT 11:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رکنیت کی بحالی پر ملا جلا ردعمل
News image
پاکستان میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے دولتِ مشترکہ میں پاکستان کی رکنیت بحال ہونے پرملے جلے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔

حزب اختلاف کی جماعتوں کے سب بڑے اتحاد الائنس فار ریسٹوریشن آف ڈیموکریسی ( اے آر ڈئ ) کے چیئرمین مخدوم امین فہیم نے کہا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت بحال نہیں ہوئی ہے اور ایک با وردی صدر کی موجودگی میں پاکستان کو دولتِ مشترکہ میں دوبارہ شامل کئے جانے کا کوئی جواز نہیں۔

تاہم حزب اختلاف میں شامل مذبہی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد نے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سال کے آخر تک صدر مشرف کے وردی اتار دینے کے بعد ملک میں جمہوری نظام پوری طرح بحال ہوجائے گا۔

مخدوم امین فہیم نے ایک اخبار کو بتایا کہ پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اگر اس سے صرف نظر کرکے دولتِ مشترکہ نے پاکستان کی رکنیت بحال کرنا ہی تھی تو پھر انیس سو ننانوے میں فوجی حکومت کے قیام کے وقت رکنیت معطل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

امین فہیم نے حال ہی میں دولتِ مشترکہ کو ایک خط لکھا تھا جس میں جمہوریت کی مکمل بحالی تک پاکستان کی رکنیت معطل رکھنے پر زور دیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر پچیس مئی کو اسلام آباد میں ہونے والے اے آر ڈی کے اجلاس میں غور کیا جائے گا۔

پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے رہنما راجہ ظفر الحق نے کہا کہ وہ ملک کے مفاد کو کسی صورت نقصان نہیں پہنچانا چاہتے۔

انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ دولتِ مشترکہ کے دروازے پاکستان کے لیے بند کر دئے جائیں لیکن وہ دولتِ مشترکہ اور یورپی برادری سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ جہموری نظام کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ کسی جمہوری نظام میں ملک کا صدر ایک باوردی جنرل نہیں ہو سکتا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اس دولتِ مشترکہ کا یہ فیصلہ ان کے لیے غیر متوقع نہیں تھا کیونکہ مغربی دنیا اس وقت صدر مشرف کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو جاری رکھنے کے وعدوں کے صلے میں نوازنہ چاہتی ہے۔

تاہم حکومت نے دولت مشترکہ میں پاکستان کی رکنیت کی بحالی کا خیر مقدم کیا ہے۔

وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے رابطہ کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ رکنیت کی بحالی پاکستان کی اخلاقی فتح ہے ، جس کا انہیں کافی عرصے سے انتظار تھا۔

تاہم ان کا دعوی تھا کہ یہ دولت مشترکہ کے بھی مفاد میں تھا کہ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے بعد رکنیت معطل نہ رکھیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ رکنیت کی بحالی صدر جنرل پرویز مشرف کے ایک عہدہ رواں سال کے آخر تک چھوڑنے سے مشروط ہے، اس پر وزیر اطلاعات کی رائے تھی کہ صدر ستروہیں آئینی ترمیم پر پہلے ہی عمل کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد