کوئٹہ میں اے آر ڈی کی احتجاجی ریلی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اتحاد برائے بحالی جمہوریت یعنی اے آر ڈی کے صوبائی قائدین نے کہا ہے ان کا احتجاج مشرف حکومت کے خاتمے تک جاری رہے گا۔ جمعہ کو کوئٹہ میں نکالی جانے والی احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ان رہنماؤں نے حقیقی جمہوریت کے قیام کا مطالبہ کیا۔ ریلی میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی، جمہوری وطن پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے کارکنوں نے زبردست نعرہ بازی کی۔ یہ احتجاجی ریلی میزان چوک سے شروع ہوکر مختلف بازاروں سے ہوتی ہوئی کوئٹہ پریس کلب کے سامنے پہنچی جہاں اے آر ڈی کے صوبائی قائدین نے ریلی کے شرکا سے خطاب کیا۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ان رہنماؤں نے کہا کہ فوجی وردی میں ملبوس صدر کی موجودگی میں حقیقی جمہوریت قائم نہیں ہوسکتی۔ جمہوری وطن پارٹی کے رہنما سینیٹر امان اللہ کنرانی نے کہا کہ موجودہ حکومت کو احتساب کے حوالے سے مطلوب افراد اب نے صرف ایوان صدر ایوان، ایوان وزیراعظم اور پارلیمان میں موجود ہیں بلکہ جنرل مشرف کے خاص ساتھی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ صدر مشرف کا احتساب کا نظام بھی حکمرانوں کی طرح ہی جھوٹا ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے قائدین نے اپنی تقریروں میں کہا ہے کہ فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے۔ روزی خان اور سعداللہ شاہ نے کہا کہ ایسی جمہوریت قبول نہیں جس میں باوردی صدر نے تمام اختیارات اپنے قبضے میں لے رکھے ہوں اور جہاں پارلیمان مفلوج ہے اور نظام آمریت قائم ہے۔ مسلم لیگ (ن) شریف کے رہنما خدائے نور نے کہا ہے کہ سیاسی قائدین کے خلاف قائم تمام مقدمات واپس لے کر انہیں وطن واپس لایا جا ئے تاکہ ملک میں عوام کے حقیقی نمائندے عوام کی صحیح معنوں میں خدمت کر سکیں۔ یہاں یہ امر قابل زکر ہے کہ ریلی میں تینوں جماعتوں کے کوئی دو سو کے قریب لوگ شامل تھے جن میں زیادہ تعداد جمہوری وطن پارٹی اور پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکنوں کی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||