BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 October, 2003, 13:11 GMT 17:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اے آر ڈی کے دو سربراہ

امین فہیم
مخدوم امین فہیم سینیئر رہمنا ہوں گے: جاوید ہاشمی

حزب اختلاف کے اتحاد براۓ بحالئ جمہوریت (اے آر ڈی) نے بدھ کو اپنے سربراہی اجلاس میں پیپلز پارٹی کے مخدوم امین فہیم کو اتحاد کا نیا چیئرمین اور مسلم لیگ(ن) کے جاوید ہاشمی کو صدر منتخب کیا ہے۔

نوابزادہ نصراللہ خان اے آر ڈی کے صدر تھے جن کی گزشتہ ماہ وفات سے یہ عہدہ خالی ہوا تھا اور مخدوم امین فہیم کو نگران صدر مقرر کیا گیا تھا۔

اے آر ڈی میں شامل دوبڑی جماعتیں پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین اور مسلم لیگ(ن) دونوں نوابزادہ نصراللہ کی خالی جگہ پر اپنے رہنماؤں کا تعین چاہتے تھے۔ اس اختلاف کے باعث سات اکتوبر کو ہونے والے اے آر ڈی کے سربراہی اجلاس میں کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا جسے بدھ کودو سربراہی عہدے بنا کر دور کرنے کی کوشش کی گئی۔

جاوید ہاہشمی
جاوید ہاشمی مسلم لیگ نواز کے رہنما ہیں۔

تاہم دو سربراہوں کے ہونے سے حزب اختلاف کے اس اتحاد کے فیصلوں کے بارے میں جس ابہام کے پیدا ہونے کا خدشہ ہے اسے اے آر ڈی کے رہنما پورے طور پر دور نہیں کرسکے۔ مخدوم جاوید ہاشمی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اے آر ڈی اپنے فیصلے باہمی مشاورت سے کرے گی۔

اے آر ڈی کے فیصلوں کا اعلان کرتے ہوۓ امین فہیم نے کہا کہ اتحاد پشاور میں چوبیس اکتوبر کو جلسہ عام کرے گا اور اس کے بعد پچیس اکتوبر کو اس کے سربراہی اجلاس میں رمضان کے پیش نظر آئندہ کی حکمت عملی متعین کی جاۓ گی۔

اے آر ڈی کے فیصلوں سے ایک بات تو واضح ہوگئی ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) جو دو بڑی متحارب جماعتیں رہی ہیں ابھی تک ایک دوسرے کے اتنی قریب نہیں آسکیں کہ ایک جماعت دوسری جماعت کی سربراہی کو تسلیم کرلے۔

نوابزادہ نصراللہ خان نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کو ایک اتحاد میں شامل کرکے جو پیش رفت کی تھی اب ان کے نہ ہونے سے دونوں جماعتوں کے درمیان اختیارات کے معاملہ پر اختلافات کا دروازہ دوبارہ کھل گیا ہے۔

اے آر ڈی کے دو سربراہ مقرر کرکے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) نے فی الحال برابری کے اصول کی بنیاد پر اپنے اختلافات کو دبا تو لیا ہے لیکن حزب اختلاف کے اس اتحاد کو مؤثر طریقے سے چلانے کے لیے اس سے جو عملی مشکلات پیدا ہوں گی وہ انھیں کس طرح دور کریں گی یہ دیکھنے کی بات ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد