BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 February, 2004, 18:55 GMT 23:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قاضی: کل جماعتی کانفرنس کا مطالبہ

قاضی
قاضی حسین احمد امریکہ پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں
متحدہ مجلس عمل کے قائم مقام صدر قاضی حسین احمد نے وزیراعظم ظفر اللہ جمالی سے مطالبہ کیا ہے کہ ایٹمی معاملہ پر نواز شریف اور بے نظیر بھٹو سمیت ایک قومی کانفرنس بلائیں تاکہ آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے۔

قاضی حسین احمد لاہور میں امریکی دانشور نوم چومسکی کی کتاب دہشت گرد ریاستیں کی تقریب رونمائی سے خطاب کررہے تھے جس کے بعد انھوں نے صحافیوں سے بات چیت کی۔

قاضی حسین احمد نے کہا کہ وزیراعظم جمالی ملک کے چیف ایگزیکٹو ہونے کا ثبوت دیں اور ایک بڑی پہل کرتے ہوئے ایٹمی معاملہ پر ملک کے ہر شعبہ زندگی کے لوگوں کی وسیع البنیاد کانفرنس منعقد کریں جس میں سابق وزرائے اعظم بےنظیر بھٹو اور نواز شریف بھی شریک ہوں۔

قاضی حسین احمد نے کہا کہ فوج کے جرنیل ملک کی سلامتی کے ذمہ دار ہیں اس لیے انھیں بھی اس کانفرنس میں شریک ہونا چاہیے۔

قاضی حسین احمد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی بحران میں پھنسایا گیا ہے اور ملک کو اس سے نکالنے کے لیے جمالی قومی کانفرنس بلائیں اور نیا لائحہ عمل طے کیا جائے۔

بعد میں سوالوں کے جواب میں انھوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل وزیراعظم جمالی کو اس کانفرنس کو منعقد کرنے کے لیے غیرمشروط تعاون کی پیش کرتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ خود سے یہ کانفرنس نہیں بلا سکتے کیونکہ بے نطیر اور نواز شریف ملک سے باہر ہیں اور ان کے ملک میں آنے پر پابندی ہے اس لیے انہیں وہ نہیں بلکہ وزیراعظم ہی بلا سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ ایٹمی معاملہ پر امتیاز برت رہا ہے اور کسی اور ملک کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیا جارہا۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی کانفرنس میں ایٹمی معاملہ پر لائحہ عمل طے ہو اور پوری دنیا کو پیغام جائے کہ پاکستانی قوم کیا چاہتی ہے تاکہ امریکہ ہم پر دباو ڈالنا بند کرے۔

قاضی حسین احمد نے کہا کہ مجلس عمل اس معاملہ پر پارلیمینٹ کا اجلاس بلانا چاہتی ہے اور انھوں نے عمران خان سے بات کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ان کی طرف سے دوسری جماعتوں سے بات کریں تاکہ پارلیمان کا اجلاس بلانے کے لیے ستاسی ارکان کے دستخط حاصل کیے جاسکیں۔

یاد رہے کہ اے آر ڈی کےچئیرمین مخدوم امین فہیم نے مجلس عمل کے ساتھ مل کر اجلاس بلانے سے انکار کردیا تھا۔

قاضی حسین احمدنے اس سوال کے جواب میں کہ امریکہ نے ایمٹی ٹیکنالوجی کی منتقلی کے ثبوت پاکستان کو دیے ہیں کہاکہ وہ امریکہ کی بات پر اعتبار نہیں کرتے کہ اس کے دعوے عراق میں غلط ثابت ہوئے ہیں۔

قاضی حسین احمد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا اقتدار وہاں ایک فیصد کی سرمایہ دار اقلیت کے ہاتھوں میں ہے جو سب ایک نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھیں اپنے وسائل اور طاقت کا اندازہ ہے اور وہ امریکہ اور باقی دنیا میں امتیاز قائم رکھنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف نے امریکہ کا ساتھ دینے اور اس کے طفیلی بن کررہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر خارجہ آصف احمد علی نے کہا کہ اگر پاکستان ، اسرائیل اور ہندوستان کو ایٹمی کلب کی رکنیت دے دی جائے تو پاکستان کو ایٹمی ٹیکنالوجی کے عدم پھیلاؤ کے معاہدہ این پی ٹی پر دستخط کردینا چاہیے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد