نتائج تسلیم نہیں کریں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جماعت اسلامی کے امیر اور متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد نے الزام لگایا ہے کہ کراچی میں قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے اور وہ نتائج کو تسلیم نہیں کریں گے۔ انھوں نے چیف الیکشن کمشنر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ آج لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوۓ قاضی حسین احمد نے کہا کہ کراچی میں ایم کیو ایم نے پچاس پولنگ اسٹیشنوں پر قبضہ کیا ہوا ہے اور متحدہ مجلس عمل کے پولنگ ایجنٹوں کو وہاں سے نکال دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ووٹوں کی گنتی کے وقت ان اسٹیشنوں پر مجلس عمل کا کوئی ایجنٹ موجود نہیں تھا۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ پولیس اور رینجرز مکمل طور پر ایم کیو ایم کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہیں اور انھوں نے اس کے مخالفین کا محاصرہ کیا ہوا ہے۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ مجلس عمل نے ایک ہفتہ پہلے چیف الیکشن کمشنر کو اس خطرہ سے آگاہ کیا تھا تو انھوں نے یقین دہانی کرائی تھی اور کہا تھا کہ پولنگ کے وقت کوئی سرکاری عہدیدار وہاں نہیں جاۓ گا۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ اس یقین دہانی کے برعکس چیف الیکشن کمشنر نے کوئی عملی اقدام نہیں کیا اور صوبائی حکومت نے سب کچھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے گورنر کی حکومت ہے۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ وہ سارا دن چیف الیکشن کمشنر سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن وہ بات نہیں کررہے۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ انھوں نے وزیراعظم ظفراللہ جمالی سے جب بات کی تو انھوں نے کہا کہ انھیں تو کراچی کے ان واقعات کا جیو ٹی وی سے معلوم ہوا ہے اور وہ خود پتہ کررہے ہیں کہ کیا ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے رابطہ کرنے پر مسلم لیگ (ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین نے بھی ان واقعات سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کو فوری استعفی دے د ینا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ اگر چیف الیکشن کمشنر کو آزاد نہیں بنایا گیا تو ملک میں کوئی بھی انتخابات منصفانہ نہیں ہوسکتے۔ متحدہ مجلس عمل کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگر کراچی میں منصفانہ انتخابات ہوتے تو مجلس عمل قومی اسمبلی کی دو نشستیں جیت جاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم جو کہ عوامی تائید سےمحروم ہورہی ہے ایسی جماعت کو حکومت کی سرپرستی میں دوبارہ سہارا دیا جارہا ہے۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ کراچی میں آج مخالفین کی فائرنگ سے جماعت اسلامی کے تین کارکن ہلاک ہوۓ ہیں اور ایک ہلاک ہونے والے شخص کا تعلق جمعیت علماۓ اسلام سے ہے۔ انھوں نے کہا کہ کراچی میں مجلس عمل کے پانچ سو افراد گرفتار ہیں جن میں ایک رکن قومی اسمبلی لئیق خان بھی ہیں جو ان کے بقول ایک پولنگ اسٹیشن میں بند خواتین کو باہر نکلوانے کےلیے گۓ تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||