درہ آدم خیل قاضی کے لیے بند | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل اور جماعت اسلامی کے رہنما قاضی حسین احمد کی جانب سے ایک ہفتے کے اندر قبائلی علاقوں میں داخل ہونے کی دوسری کوشش بھی حکام نے ناکام بنا دی۔ جماعت اسلامی قبائلی علاقوں میں نظام کی تبدیلی کے لیے آج کل ایک تحریک چلا رہی ہے۔ اسی سلسلے میں قاضی حسین احمد نے آج درہ آدم خیل میں ایک احتجاجی جلسہ عام سے خطاب کرنا تھا۔ گزشتہ اتوار کو قاضی حسین احمد کو باجوڑ ایجسنی میں داخل نہیں ہونے دیا گیا تھا۔ اس مرتبہ بھی قبائلی حکام نے درہ آدم خیل جانے والے تمام راستے بدھ کی صبح سے بند کر دیے تھے۔ خاصہ دار اور فرنٹیر کور کے جوان بڑی تعداد میں اسلحہ سازی کے لیے مشہور قبائلی قصبے درہ آدم خیل میں تعینات تھے۔ پشاور اور کوہاٹ کے درمیان ٹریفک بھی متاثر ہوئی اور لوگوں کو کافی دیر تک انتظار کی کوفت اٹھانی پڑی۔ جماعت کے امیر کو جیکسن چیک پوسٹ پر روک لیا گیا اور اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ ظاہر شاہ نے انہیں قبائلی علاقوں میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کے فیصلے سے آگاہ کیا گیا۔ البتہ قاضی حسین نے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کیا۔ کافی تکرار کے بعد جب حالات بے قابو ہونے لگے تو قاضی حسین احمد نے واپسی کا اعلان کیا۔ البتہ واپسی سے قبل انہوں نے ایک ٹرک پر کھڑے ہوکر جماعت کے کارکنوں سے خطاب کیا اور الزام لگایا کہ حکومت یہ سب کچھ امریکی ایما پر کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قبائلی عوام کے حقوق کی پامالی زیادہ عرصے نہیں ہونے دی جائے گی۔ انہوں نے اس موقعہ پر اپنی مہم جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||