| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
وردی اتار دیں
جماعتِ اسلامی کے سربراہ اور متحدہ مجلسِ عمل کے رہنما قاضی حسین احمد نے صدر جنرل پرویز مشرف کی آرمی چیف کے عہدے سے سبکدوشی کے وعدے کو آئینی حصہ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’صدر کے اپنے آئینی ماہرین کی اپنی ٹیم جس میں چوہدری شجاعت اور صدر مشرف کے بہت قریبی لوگ بھی شامل تھے۔ انہوں نے خود طے کیا تھا کہ اکتوبر دو ہزار چار تک صدر وردی اتاردیں گے‘۔ انہوں نے کہا ’اب بات صرف یہ رہ گئی ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ لوگوں کو بتانے کے لئے کہ یہ بات طے ہوچکی ہے، آئینی ترمیمی بل میں لانا ضروری ہے۔ اس کے بغیر لوگ کیسے یقین کریں گے کہ جنرل صاحب وردی اتاردیں گے اور آرمی چیف کے عہدے سے سبکدوش ہوجائیں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور ایم ایم اے نے اس کے لئے ایک راستہ بھی بنایا ہے کہ بجائے اس کے کہ ہم واضح طور پر یہ کہہ دیں کہ پرویز مشرف اکتوبر دو ہزار چار کے بعد آرمی چیف نہیں رہیں گے، ہم یہ کہہ دیں گے کہ آرٹیکل تریسٹھ بی اکتوبر دو ہزار چار کے بعد لاگو ہوجائے گا۔ واضح رہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ایسا شخص جو حکومتی عہدے پر فائز ہے وہ کسی منتخب عہدے پر نہیں آسکے گا۔لہذا اس دفعہ کے موثر ہونے کے بعد آرمی چیف اور صدر کا عہدہ کوئی بھی شخص ایک ساتھ نہیں رکھ سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ بات ترمیم میں آجائے تو پھر مقصد حل ہوجاتا ہے۔ حزبِ اختلاف کے نرم رویے کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں قاضی حسین احمد نے کہا کہ جو لچک ہمیں دکھانی تھی وہ ہم نے دکھا دی اور جو وہ کرسکتے تھے وہ(حکومت) انہوں نے کردیا، لہذا اب تو مفاہمت ہوچکی ہے۔ پارلیمان کو معمول کے مطابق چلانے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کا یہ اپنا فیصلہ ہے، اگر وہ اس مفاہمت کے مطابق عمل درآمد نہیں کریں گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بات ٹوٹ جائے گی۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ مذاکرات کے ٹوٹ جانے پر دوسرے راستے تلاش کریں گے کہ کس طرح حکومت کو مجبور کیا جائے تاکہ وہ پارلیمان کی بالادستی کو قبول کرے اور آئین کو بحال کرے کیونکہ آئین اس وقت بحال نہیں ہے۔ متبادل راستوں کے بارے میں انہوں نے کہا ’ ظاہر ہے کہ زور، ڈنڈا، تمیز اور طاقت، جو عوام کے پاس ہوتی ہے وہ ُپرامن مظاہرے اور جلسوں کے صورت میں ہی اپنا دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ یہی طاقت عوام کے پاس ہوتی ہے اور یہی ہم استعمال کریں گے‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |