| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرف کی وردی، عدلیہ کا گھاٹا
حکومت اور متحدہ مجلسِ عمل کے درمیان سمجھوتے میں سب سے زیادہ نقصان ملک کی اعلیٰ عدلیہ کا ہوا ہے جس کی مدت ملازمت میں تین سال کا اضافہ واپس لے لیا گیا ہے۔ ملک کی وکلاء برادری نے عدلیہ پر فوجی حکومت کے ساتھ ساز باز کر کے اپنی مدت ملازمت میں اضافہ کرانے کا الزام لگایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ نے پہلے جنرل پرویز مشرف کے فوجی اقدام کو نظریہ ضرورت کے تحت جائز قرار دیا اور پھر اسی جنرل پرویز مشرف سے اپنی مدت ملازمت میں تین سال کا اضافہ کروا لیا۔ اس کے مطابق سپریم کورٹ کا جج اڑسٹھ سال اور ہائی کورٹ کا جج پینسٹھ سال کی عمر کو پہنچ کر ریٹائیر ہونا تھا۔ اب یہ بالترتیب پینسٹھ اور باسٹھ سال پر ریٹائیر ہو جائیں گے۔ حکومت اور ایم ایم اے کے درمیان سمجھوتے کی وجہ سے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے دس جج فارغ ہو جائیں گے جن میں ملک کا چیف جسٹس بھی شامل ہے جس نے جنرل پرویز مشرف سے ریفرینڈم کے بعد ملک کے صدر ہونے کا حلف بھی لیا تھا۔ ایل ایف او کی پارلیمان سے منظوری کے بعد جو جج فارغ ہو جائیں گے ان میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس شیخ ریاض احمد، جسٹس منیر اے شیخ، جسٹس قاضی محمد فاروق، سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس روشن عیسانی، جسٹس ایس اے سروانہ، جسٹس زاہد قربان علوی، جسٹس اشرف لغاری، لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس کرامت نذیر بھنڈاری، جسٹس راجہ صابر، اور پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس عبدالروف لغمانی شامل ہیں۔ جسٹس کرامت نذیر بھنڈاری اس وقت سپریم کورٹ کے عارضی جج کے طور پر کام کر رہے ہیں لیکن وہ ابھی تک ہائی کورٹ کے جج ہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر طارق محمود نے کہا کہ اب ججوں کو اس بات کا اندازہ ہو جانا چاہیے کہ فوجی جرنیلوں کے اقدام کو جائز قرار دینے کے کیا نتائج ہوتے ہیں۔ طارق محمود نے کہا کہ امید کی جا سکتی ہے کہ ملک کی عدلیہ اب پھر آزادی کے ساتھ فیصلے کرنے کی کوشش کر ئے گی اور فوجی جرنیلوں کو خوش کرنے کی کوشش چھوڑ دے گی۔ ججوں کی معدت ملازمت میں توسیع واپس ہونے کی وجہ حکومت کے لیے ایک نیا مرحلہ سامنے آ گیا ہے جو ایک نئے تنازع کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ نئے چیف جسٹس کے تقرر ابھی دو تین روز میں ہونا ہے اور اس کے دو امیدوار میدان میں ہیں۔ جسٹس ناظم حسین صدیقی جو اس وقت سپریم کورٹ کی سینیارٹی لسٹ کے مطابق سینیر ترین جج کے طور پر ملک کے چیف جسٹس کے عہدے کے امیدوار ہیں۔ جسٹس ناظم صدیقی جن کا تعلق کراچی کے اردو بولنے والے گھرانے سے ہے وہ پہلے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں۔ چیف جسٹس کے عہدے کے دوسرے امیدوار جسٹس افتخار محمد چوہدری ہیں جن کا تعلق بلوچستان سے ہے اور بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی رہ چکے ہیں۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری اپنے آپ کو جسٹس ناظم حسین صدیقی سے سینیئر گردانتے ہیں۔ انہوں نے ایک باقاعدہ تحریری درخواست چیف جسٹس شیخ ریاض احمد کو دے رکھی ہے کہ ان کو جسٹس ناظم صدیقی سے سینیئر قرار دیا جائے۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری اور جسٹس ناظم حسین صدیقی نے ایک ہی دن سپریم کورٹ کے جج کا حلف لیا تھا، فرق صرف اتنا ہے کہ جسٹس ناظم حسین صدیقی نے حلف صبح لیا اور جسٹس افتخار محمد نے حلف شام کو لیا۔ حکومت کے اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ اب اس درخواست کا فیصلہ جلدی ہو جائے گا۔ جسٹس ناظم حسین صدیقی کے بارے میں تاثر ہے کہ وہ نہ کسی سے ملتے ہیں اور نہ ہی لابی کے عادی ہیں۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کو سینیارٹی کی بنیاد پر مقرر کیا جاتا ہے اور آخری مرتبہ اس اصول کی خلاف ورزی پیپلز پارٹی کی حکومت نے جسٹس سجاد علی شاہ کو چیف جسٹس مقرر کر کے کی تھی جو بعد میں ایک بڑے تنازعہ کی شکل اختیار کر گئی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||