نیک، محسود، لشکر، فوج۔ یہ وانا ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقوں خصوصاً جنوبی وزیرستان کے لوگوں کے لیے سن دو ہزار چار انتہائی مشکل سال ثابت ہوا۔ سال کے آغاز میں کلوشہ اور سرحدی مقام انگور اڈہ سے القاعدہ اور طالبان کے خلاف کارروائیوں کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ تمام سال جاری رہا۔ افغانستان کے ساتھ سرحد پر واقعے پہاڑی علاقے جنوبی وزیرستان اور ملک کے دیگر علاقوں کے لوگ گزشتہ ایک برس میں فائرنگ، راکٹ حملے، پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان، قبائلی جنگجو نیک محمد، عبداللہ محسود، قبائلی جرگوں اور لشکر کشی کے ڈھول کی آوازوں سے کافی مانوس ہوچکے ہیں۔ یہ صدائیں وزیرستان پر چھائیں رہیں۔ شاید ہی کوئی قبائلی ہو جو ان افراد سے واقف نہ ہو۔ انہیں صداؤں کی وجہ سے یہ علاقہ قومی اور عالمی خبروں پر چھایا رہا۔ یہ سال آغاز سے اختتام تک گوریلا حملوں اور فوجی کارروائیوں سے بھرپور رہا۔ عوام تماشائی بنے حکومت اور عسکریت پسندوں کے درمیان تصادم، مذاکرات، معاہدے، الزامات کے تبادلے اور دوبارہ لڑائی کے ایک بظاہر نہ ختم ہونے والے سلسلے سے مخمصے میں ہی مبتلا رہے۔ یہ سب کیا ہو رہا ہے، کیوں ہو رہا ہے اور اس کا نتیجہ کیا نکلے گا ان سوالات نے سب کو ہی کنفوژ کیے رکھا۔ جنوبی وزیرستان کے ایک قبائلی صاحبزادہ کمالو جان نے اس کی جھلک یوں پیش کی۔’کبھی یہ انہیں دہشت گرد قرار دیتے تھے کبھی ان پر لاکھوں کے انعام رکھتے، کبھی ان سے بغلگیر ہوتے اور کبھی انہیں ہلاک کر دیتے۔ یہ سب کیا ہے؟ یہ کیا ڈرامہ کھیلا جا رہا ہے۔‘ عوام تو درکنار حکومت چند منتخب نمائندوں کو بھی یہ باور کرانے میں ناکام رہی کہ یہ فوجی کارروائیاں امریکہ کے نہیں بلکہ پاکستان کے مفاد میں کی جا رہی ہیں۔ قبائلی ایجنسی باجوڑ سے متحدہ مجلس عمل کے رکن قومی اسمبلی ہارون رشید کا کہنا تھا کہ یہ سب امریکہ کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا۔ ’اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو ہلاک کرنا پاکستان اور اسلام کے فائدے کے لیے تو ہرگز نہیں ہوسکتا۔‘ البتہ سال کے اختتام پر پاکستانی اور امریکی حکام کو احساس ہوا کہ انہیں شاید یہ نقطہ واضح کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اب دونوں یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ یہ جنگ کسی ایک کے نہیں سب کے فائدہ کے لیے ہے۔
پاکستان میں امریکی سفیر ریان سی کروکر نے بی بی سی سے بات چیت میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’یہ ایسا دشمن نہیں جو صرف ایک سمت میں حملے کر رہا ہے۔ یہ صرف امریکی یا افغان مسئلہ نہیں ہے۔ یہ پاکستانی مسئلہ بھی ہے۔ صدر مشرف پر قاتلانہ حملوں نے واضح کر دیا ہے کہ یہ شدت پسند پاکستانی حکومت اور عوام پر بھی حملے کر رہے ہیں۔ ہم اس جنگ میں اکٹھے ہیں۔ یہ ہم ایک دوسرے کے فائدے کے لیے نہیں کر رہے۔ یہ مشترکہ کوشش ہے ایک مشترکہ دشمن کے خلاف۔‘ کہتے ہیں جس کام کا آغاز ہی اچھا نہ ہو اس کا اختتام بھی کچھ زیادہ اچھا نہیں ہوتا۔ یہی جنوبی وزیرستان میں بھی ہوا۔ سات جنوری کو کلوشہ میں سال کا پہلا آپریشن ہوا اور پھر باقی کے تین سو پینسٹھ روز یہ سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا۔ البتہ اصل میدان جنگ سولہ مارچ کو لگا۔ ابھی صدر پرویز مشرف کی جانب سے پشاور میں غیرملکیوں کو اندراج کرانے کی صورت میں عام معافی کی آفر کو چوبیس گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ فرنٹیر کور نے حرکت میں آتے ہوئے کلوشہ میں پیش قدمی کی لیکن جلد ہی گھیرے میں آگئی اور اس کے نتیجے میں سولہ جوان اور دو تحصیلدار ہلاک ہوئے جبکہ گیارہ سپاہی اغوا بھی کیے گئے جنہیں بعد میں رہا کر دیا گیا۔ اس کے بعد کئی روز تک جھڑپیں جاری رہیں اور بلآخر بیس مارچ کو فوج نے کنٹرول سنبھالتے ہوئے علاقے کی تلاشی شروع کی۔ جنگی پس منظر میں جرگوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ بھی شروع ہوا جس کے نتیجے میں چوبیس اپریل کو شکئی کے مقام پر عسکریت پسندوں اور فوج کے درمیان بڑی دھوم دھام سے معاہدہ ہوا اور کور کمانڈر کی شان میں تعریفی نظمیں پڑھی گئیں۔ کور کمانڈر لیفٹینٹ جنرل صفدر حسین اس موقع پر نیک محمد اور دیگر قبائلیوں سے جن پر القاعدہ کے افراد کو پناہ دینے کا الزام تھا بغلگیر ہوئے، انہیں بھائی قرار دیا اور القاعدہ کے غیرملکی عناصر کو تیس اپریل تک کی اندراج کے لیے مہلت کا اعلان کیا۔ فوج کی مزاحمت کرنے والوں کے ایک ستائیس سالہ قبائلی نوجوان نیک محمد رہنما بن کر سامنے آئے۔ وہ عسکریت پسندوں اور ذرائع ابلاغ کے درمیان ایک رابطہ ثابت ہوئے۔ یہ معاہدہ بدقسمتی سے زیادہ دیر نہ چل سکا۔ حکومت نے نیک محمد پر دباؤ ڈالا کہ وہ اس معاہدے کے تحت اس بات کے پابند ہیں کہ غیرملکیوں کا اندراج کروائیں۔ دوسری جانب نیک محمد کسی ایسی بات پر معاہدے سے انکار کرتے رہے۔ معاہدے کے ایک دن بعد بی بی سی سے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ وہ غیرملکیوں کے اندراج کے پابند نہیں۔ لیکن تمام تر امیدوں کے باوجود شکئی معاہدہ ٹوٹ گیا اور لڑائی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا۔ نیک محمد بھی اپنے دو ٹوک بیانات کی وجہ سے جلد ہی فوجی میزائل کا نشانہ بن کر ہلاک ہوگئے۔
اس تمام صورتحال کا سب سے زیادہ برا اثر عام قبائلیوں پر پڑا۔ لڑائی میں عام شہریوں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے علاوہ ان قبائلیوں پر حکومت نے اقتصادی پابندیاں بھی عائد کیں، سینکڑوں کو گرفتار کیا اور کئی ہزار کو نقل مکانی پر مجبور کیا۔ وانا کے ایک قبائلی نوجوان عرفان اللہ نے ان کی زندگی پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ وہ معاشی طور پر نڈہال ہوچکے ہیں۔ موسم گرما میں پھل سبزیوں کی کاشت سے انہیں جو کمائی ہوتی تھی اس سے وہ سرد موسم کے مشکل مہینے با آسانی گزار لیتے تھے۔ بازار اور سامان کے لانے لیجانے پر پابندی سے وہ بری طرح متاثر ہوئے اور آج کل مالی مشکلات سے دوچار ہیں۔ بلآخر کئی قسم کے اتار چڑھاؤ کے بعد احمد زئی وزیر علاقے میں حالات اب قدرے معمول پر آ رہے ہیں۔ حکومت کو مطلوب افراد نے پر امن رہنے اور غیرملکیوں کی مدد نہ کرنے کی یقین دہانی کرا دی ہے۔ لیکن فوج کی توجہ اس کے بعد محسود علاقوں کی جانب مرکوز ہوئی۔ اس کے خیال میں غیر ملکی عناصر وزیر سے محسود علاقے منتقل ہوگئے ہیں۔ پھر ڈیلہ کے مقام پر بمباری سے ایک وقت میں پچاس افراد کے مارے جانے جیسے بڑے واقعات بھی رونما ہوئے اور فوج بھی حملوں میں جانی نقصانات اٹھاتی رہی۔ اس دوران اکتوبر میں گول زام ڈیم کی تعمیر پر کام کر رہے دو چینی انجینئروں کے اغوا کا واقعہ بھی پیش آیا۔ اس کی ذمہ داری انتیس سالہ محسود نوجوان عبداللہ محسود نے قبول کی ۔ عبداللہ کو کئی لوگ نیک محمد کے جانشین کے طور پر دیکھنے لگے ہیں۔ گوانتناموبے کیوبا سے اٹھارہ ماہ تک قید جھیلنے کے بعد لوٹنے والے اس قبائلی شخص نے فوج سے کئی امن معاہدوں کے دعوے کئے لیکن فوج اس سے انکار کرتی رہی اور جواب میں اس کی گرفتاری میں مدد دینے والے کے لیے پچاس لاکھ روپے انعام کا اعلان بھی کیا۔ لیکن عبداللہ کی جانب سے ابھی تک ہتھیار ڈالنے کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے۔ بی بی سی سے نے ایک انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ مزاحمت کب ختم کریں گے تو ان کا جواب تھا کہ جب تک پاکستانی حکومت امریکہ کے اشاروں پر ان کے خلاف کارروائیاں بند نہیں کر دیتی ان کی مزاحمت جاری رہے گی۔ گورنر سرحد سید افتخار حسین شاہ کا عبداللہ کے بارے میں کہنا تھا کہ وہ چینیوں کے اغوا کے واقعہ میں اپنے لوگوں کی بات نہ مان کر اکیلا رہ گیا ہے۔ تمام سال صحافیوں کو بھی فوجی کارروائیوں کی غیرجانبدارانہ کوریج میں دقت رہی۔ حکومت نے ان کے کارروائی والے علاقے میں داخلے پر پابندی لگا دی اور نیک محمد یا عبداللہ جیسے جنگجوؤں کے بیانات نشر یا شائع نہ کرنے کا حکم بھی دیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے پشاور میں ایک اخباری کانفرنس میں ایسا کرنے والے صحافیوں کو کارروائی کی دھمکی بھی دی۔ ایک برس کے دوران وزیرستان میں دو سو فوجی ہلاک جبکہ مخالفین کے نقصانات کے بارے میں حکام اب اندازے لگانے سے بھی گریز کرنے لگے ہیں۔ لیکن یہ فوج کے نقصانات سے کئی گنا زیادہ ہے۔
گزشتہ برس فوج نے وزیرستان میں کیا کھویا کیا پایا یہ سوال میں نے فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کے سامنے رکھا تو ان کا کہنا تھا کہ احمد زئی وزیر علاقے میں امن آچکا ہے اور اب وہ وہاں ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر توجہ دیں گے۔ البتہ ساتھ ساتھ وہ غیرملکیوں کے دوبارہ وہاں داخلے کی کوشش کو بھی روکیں گے۔ محسود علاقے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ بھی تقریباً پاک کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وانا آپریشن کے متاثرین کو پہلے ہی بڑی امداد دی جا چکی ہے اور وہ ایک مرتبہ امن کے آنے کے بعد سروے بھی کریں گے اور ایسے متاثرین جنہیں امداد نہ مل سکی ان کی مدد کی جائے گی۔ قبائلی علاقوں کا ذکر القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن اور ان کے نائب ایمن الزواہری کے روپوشی کے ممکنہ علاقے کی وجہ سے بھی ہوتا رہا ہے۔ لیکن فوجی حکام اب تک صرف ازبک عسکریت پسند طاہر یلدش کی موجودگی کی ہی تصدیق کر سکے ہیں۔ باقی مطلوب افراد کہاں ہیں اور کیا وہ اس علاقے میں اتنے طویل عرصے تک چھپ سکتے ہیں؟ یہ سوال میں نے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی آیس آئی کے سابق سربراہ لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ اسد دورانی سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ کم از کم وہ ان افراد کو کسی ایسے علاقے میں نہیں رکھیں گے جہاں ان کی موجودگی کی بات اتنی زیادہ کی جاتی ہو۔ ’البتہ یہ تنظیم اگر اتنی فعال ہے کہ وہ گیارہ ستمبر کا حملہ کرسکتی ہے تو بیس تیس افراد کو چھپانا اس کے لیے کوئی مشکل نہیں۔‘ اگرچہ پاکستانی فوجی حکام تو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مسئلہ اب تقریباً حل کر لیا گیا ہے لیکن ابھی بھی بہت سے سوال ادھورے ہیں۔ وہ پانچ سو غیر ملکی کیا ہوئے جن کی وزیرستان میں موجودگی کے حکومت دعوے کر رہی تھی؟ کیا وہ دوبارہ لوٹ سکتے ہیں؟ اور کیا لڑائی میں آج کل کے خاتمے کی وجہ فوج کا کنٹرول ہے یا سرد موسم کا؟ ایسے کئی سوالات خدشات کو جنم دے رہے ہیں۔ ان کے جوابات کے لیے شاید ہمیں زیادہ انتظار نہ کرنا پڑے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||