BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 26 November, 2004, 14:02 GMT 19:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وانا سے چوکیوں کا خاتمہ

News image
چوکیوں کا خاتمہ حکومت اور قبائلیوں کے درمیان بہتر تعلقات کا غماز ہے
پاکستان میں حکام نے جنوبی وزیرستان میں وانا کے علاقے میں تمام چوکیاں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پشاور میں جمعہ کو ایک جرگے میں حکام نے احمدزئی وزیر قبائل کوگرفتار بےگناہ قبائلیوں کی جلد رہائی کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔

جنوبی وزیرستان میں گزشتہ دنوں احمدزئی وزیر قبائل کے پانچ مطلوب افراد کے ساتھ امن معاہدے کے بعد یہ جرگہ پشاور میں منعقد کیا گیا۔ گورنر ہاؤس میں منعقد احمدزئی وزیر قبائل کے اس جرگے کا مقصد اس معاہدے کو باقاعدہ شکل دینا تھا۔

جرگے کے آغاز پر اس میں شریک ماضی قریب میں حکومت کو مطلوب پانچ افراد میں سے تین یعنی مولوی عباس، محمد جاوید، مولوی عبدالعزیز اور محمد شریف کے بیٹے حیات اللہ نے گورنر سرحد سید افتخار حسین شاہ اور کور کمانڈر پشاور لیفٹینٹ جنرل صفدر حسین سے مصافحہ کیا۔

اس موقعہ پر گورنر نے ان پانچ افراد کو بچھڑے ہوئے دوست قرار دیا اور کہا کہ ان کی جگہ پہاڑوں اور غاروں میں نہیں بلکہ گورنر ہاوس میں ہے۔

افتخار حسین شاہ کا کہنا تھا کہ احمدزئی وزیر قبائل کے علاقے میں جو ترقیاتی عمل رکا ہوا تھا اسے دوبارہ شروع کیا جائے گا اور انگور اڈہ کے سرحدی مقام پر کسٹم سٹیشن بھی قائم کیا جائے گا۔

انہوں نے قبائلیوں کے مطالبے پر اعلان کیا کہ بےگناہ افراد کو بھی جلد رہا کر دیا جائے گا۔

اس موقع پر کور کمانڈر لیفٹینٹ جنرل صفدر حسین نے وانا کے علاقے میں قائم تمام حفاظتی چوکیوں کو آج سے ختم کرنے کا اعلان کیا اور یقین دلایا کہ فوج اب علاقے میں کسی کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کرے گی۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ محسود قبائل بھی احمدزئی وزیر کی تقلید کریں گے۔

اس موقع پرمولوی عباس نے بھی خطاب کیا اور حکومت کو امن معاہدے کی مکمل پاسداری کی یقین دہانی کرائی البتہ انہوں نے فوجی کارروائیوں میں ہونے والے نقصانات کے ازالے کا مطالبہ بھی کیا۔

دریں اثنا گورنر سرحد نے جنوبی وزیرستان کے علاقے مکین کی مقامی قبائل پر مشتمل امن کمیٹی کے لیے چھ لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا۔ اس کمیٹی نے گزشتہ دنوں دو غیرملکیوں کو پکڑ کر حکام کے حوالے کیا تھا۔ اس کمیٹی کے لیے فوجی حکام پہلے ہی دو لاکھ روپے کا اعلان کرچکے ہیں۔

چھ لاکھ روپے کا چیک گورنر نے کمیٹی کے سربراہ احمد شاہ مسعود کے حوالے کیا۔حکومت ان اعلانات کے ذریعے بظاہر ان قبائل کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد