BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 July, 2004, 16:02 GMT 21:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیرستان میں فوج سے جھڑپیں
پاکستانی فوج شمالی وزیرستان میں تعینات ہے
پاکستانی فوج نے اپنے کسی بھی جانی نقصان کی تردید کی ہے لیکن مقامی لوگ چار فوجیوں کی ہلاکت کا دعوٰی کررہے ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں فوج اور شدت پسندوں میں جھڑپیں ہوئی ہیں اور کچھ فوجیوں کی بھی ہلاکت کی خبر کی اطلاعات ہیں لیکن فوجی حکام اس کی تصدیق نہیں کررہے۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ رات نامعلوم افراد نے رزمک کے علاقے میں فوجی کیمپ پر ایک درجن سے زیادہ راکٹ داغے لیکن ان میں سے صرف تین ہی کیمپ تک پہنچ سکے۔ ان سے بھی کسی جانی نقصان کی اطلاعات نہیں ہیں۔

پشاور سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ڈانٹ کے علاقے میں فوجی قافلے پر حملہ کیا گیا جس میں چار گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔ فوجیوں کی ہلکت کا بھی دعوٰی کیا جارہا ہے لیکن فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بی بی سی کو بتایا کہ کوئی بھی فوجی ہلاک نہیں ہوا ہے۔

دوسری جانب زلی خیل قوم کی لشکر کشی کے علاوہ اطلاعات ہیں کہ پس منظر میں مسئلے کے حل کے لئے مذاکرات بھی جاری ہیں۔

کل لشکر نے وانا کے قریب القاعدہ کے ایک مشتبہ قبائلی کے مکان کو مسمار کر دیا تھا البتہ ابھی تک کسی جھڑپ یا گرفتاری کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

جنوبی وزیرستان میں مقامی قبائل نے بالآخر حکومت کے دباؤ کے تحت ان افراد کے خلاف کاروائی شروع کر دی جن پر القاعدہ کے ساتھ روابط کا شبہ ہے۔ یہ قبائل اب تک بظاہر اس کاروائی کے شروع کرنے میں لعت و لیل سے کام لے رہے تھے۔

کاروائی کے پہلے روز ماسوائے ایک مشتبہ شخص کے مکان کے مسمار کئے جانے کے کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوئی۔ لیکن وانا سے اطلاعات ہیں کہ پس منظر میں اس مسئلے کے حل کے لئے خفیہ مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس کی تصدیق جنوبی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالمالک نے بی بی سی سے بات چیت میں کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات فریقین یعنی حکومت اور مطلوب افراد کے درمیان ابتدائی مراحل میں ہیں۔ البتہ انہوں نے ان مذاکرات کے خدوخال یایہ مذاکرات کب تک کسی فیصلہ کن مرحلے میں پہنچیں گے اس بارے میں کچھ کہنے سے احتراز کیااور صرف اتنا بتایا کہ مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اور جنوبی وزیرستان سے ہی دوسرے رکن قومی اسمبلی مولانا معراج الدین کے ہمراہ سوموار کے روز پشاور گورنر سرحد سے ملاقات کے لئے پہنچ رہے ہیں۔

قبائلیوں نے حکومت سے منگل کے روز ختم ہونے والی مہلت میں اضافے کا تقاضہ بھی کیا ہے۔ البتہ توقع ہے کہ لشکر کی کاروائی کے جاری رہنے تک حکومت کوئی کاروائی شروع نہیں کرے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد