BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 September, 2004, 06:31 GMT 11:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شدت پسندوں اور فوجیوں میں جھڑپں

News image
وانا میں شدت پسندوں اور پاکستانی فوجیوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران سکیورٹی فورسز اور مشتبہ شدت پسندوں کے درمیان تازہ جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

البتہ اس تازہ لڑائی میں جانی نقصانات کے بارے میں اطلاعات کی تصدیق ابھی نہیں ہوسکی ہے۔ مشتبہ شدت پسندوں کے ایک کمانڈر عبداللہ محسود نے بی بی سی سے ٹیلیفون پر دعوی کیا ہے کہ انہوں نے فوجی گاڑیوں پر حملہ کر کے کئی کو تباہ کر دیا ہے۔ البتہ اس کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

فوجی حکام نے جھڑپوں کی تصدیق کی ہے لیکن کسی نقصان کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حالات قابو میں ہیں۔

جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ روز کی فوجی کارروائی کے جواب میں پاکستانی حکومت کے ٹھکانوں اور دیگر سرکاری اہداف پر حملے کیے جائیں گے۔ بعض اطلاعات کے مطابق فوجی گاڑیوں پر حملے ہوئے بھی ہیں۔

علاقے کے لوگوں میں کل کی کارروائی کے بعد شدید غم و غصہ ہے اور سینکڑوں مسلح لوگ جوابی حملوں کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ مجاہدین کے کمانڈر کے نام سے جانے والے شدت پسندوں کے ترجمان عبداللہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ان کے ساتھیوں نے فوجی گاڑیوں پر حملے کیے ہیں اور کئی کو جلا دیا ہے۔

البتہ ان کے پاس بقول ان کے مرنے والے فوجیوں کے بارے میں کوئی اعداد و شمار نہیں تھے اور ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں فوج ہی کچھ کہہ سکے گی لیکن فوج کی جانب سے ابھی تک کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔

جمعرات کو پاکستانی فوج کے جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے حملہ کر کے فوجی ترجمان کے بقول دہشت گردوں کے کیمپ کو تباہ کر دیا تھا اور اس فضائی حملے میں پچاس سے زیادہ افراد کے مارے جانے کی اطلاع ہے۔

ادھر پشاور میں حکام نے حفاظتی انتظامات انتہائی سخت کر دیے ہیں اور اہم سرکاری عمارتوں اور دیگر ممکنہ اہداف کی حفاظت پر مامور نفری میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ بظاہر اس اقدام کا مقصد گزشتہ روز کی کارروائی کے بعد کسی ردِ عمل سے بچاؤ ہے۔

پتہ چلا ہے کہ وانا کے بازار میں بھی کارروائی جاری ہے اور اس قبیلے کے افراد کی دکانیں توڑی جا رہی ہیں جس کا تعلق نیک محمد کے قبیلے کاکاخیل سے تھا۔

شخص عبداللہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا پاکستانی فوج نے جو کچھ کیا اس سے علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور لوگوں نے جوابی کارروائی کا عہد کیا ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی جنگ پاکستانی کے خلاف نہیں بلکہ امریکیوں کے خلاف ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس وقت بھی دس سے پندرہ امریکی پاکستانی فوج کی کارروائی کی نگرانی کر رہے ہیں۔

تاہم اسلام آباد میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے اعجاز مہر سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ اطلاعات شیخ رشید احمد اعجاز مہر نے کہا کہ وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی پاکستانی سکیورٹی فورسز کر رہی ہیں اور کوئی امریکی یا غیر ملکی فورس کا نمائندہ ان کے ساتھ ہے اور نہ نگرانی کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیر ملکی شدت پسندوں کے خلاف کاروائی جاری ہے اور اس وقت تک جاری رہے گی جس وقت تک وہ خود کو پاکستانی حکام کے حوالے نہیں کرتے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد