’القاعدہ کے ٹھکانوں‘ پر بمباری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں فوجی حکام کا کہنا ہے کہ مشتبہ عسکریت پسندوں کی جانب سے گذشتہ تین روز میں قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں فوجیوں پر حملوں کے جواب میں زمینی اور فضائی کارروائی کی ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں شدت پسندوں کی ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں البتہ اس بارے میں کوئی اعدادوشمار فراہم نہیں کئے گئے ہیں۔ پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا ہے کہ شکئی کے علاقے سنتوئی میں جمعہ کو جھڑپ میں چند شدت پسند ہلاک جبکہ کئی زخمی ہوئے ہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ فوجیوں کو ان جھڑپوں میں کوئی نقصان نہیں اٹھانا پڑا تاہم فوجیوں نے ایک شدت پسند کی لاش بھی قبضے میں لی ہے۔ ترجمان نے جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی علاقے میں پروازوں کی بھی تصدیق کی لیکن ان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد صرف بمباری ہی نہیں ہوتا۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ طیاروں نے ٹیپ سر اور ژوڑ کے گھنے جنگلات والے پہاڑی علاقے میں ایک گھنٹے تک کارروائی کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کوئی تازہ کارروائی نہیں بلکہ علاقے کو مشتبہ شدت پسندوں سے پاک کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ پاکستانی فوج شکئی کے گردو نواح میں کئی روز سے تلاشی کی کارروائیاں کر رہی ہے۔ خیال ہے کہ آج نشانہ بنائے جانے والے علاقے پرگھنے جنگلات پھیلے ہوئے ہیں لہذا زمینی کی بجائے فضائی کارروائی کی جا رہی ہے۔ جمعے کے روز بھی وانا اور تیارزہ کے فوجی کیمپوں سے مبینہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر وقفے وقفے سے گولہ باری کی جاتی رہی ہے۔ مقامی اخبارات میں فوج اور القاعدہ کے درمیان جھڑپوں کی خبریں مسلسل شائع ہو رہی ہیں لیکن ان کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آ رہا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||