وانا میں فوج پر حملے، کئی زخمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا اور گرد و نواح میں کل رات نصف شب مختلف اطراف سے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ان تازہ حملوں میں پانچ افراد کے زخمی ہونے کی خبر ہے۔ وانا کے رہائشیوں نے بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا کہ نامعلوم حملہ آوروں کی جانب سے کل رات چودہ اگست کا دن شروع ہوتے ہی شہر کے اردگرد پہاڑوں سے فوجی ٹھکانوں پر وقفے وقفے سے راکٹ برسائے۔ یہ سلسلہ صبح ساڑھے آٹھ بجے تک جاری رہا۔ عینی شاہدین کے مطابق کئی راکٹ شہر کے مغرب میں واقع زڑی نور فوجی کیمپ، سکاوٹس کیمپ اور ہوائی اڈے میں گرے۔ سرکاری فوجوں نے جوابی کارروائی میں بھی گولہ باری کی۔ ان جھڑپوں کے دوران شہری آبادی پر بھی گولے اور راکٹ گرے۔ ان حملوں سے نقصانات کے بارے میں کوئی سرکاری بیان تو سامنے نہیں آیا ہے البتہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پانچ افراد جن میں ایک فوجی بھی شامل ہے زخمی ہوئے ہیں۔ وانا میں آج کرفیو کا سا سماں ہے اور حالات کشیدہ بتائے جاتے ہیں۔ شکئی کے شمال میں منتوئی اور سنتوئی سے بھی جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں القاعدہ ارکان کے خلاف آپریشن کے بعد حالات کشیدہ ہیں اور آئے دن فوج اور قبائلی باغیوں میں جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں جس میں اب تک ایک درجن سے زیادہ فوجی بھی ہلاک ہو چکے ہیں ۔ حکومت کا موقف ہے کہ کچھ قبائیلوں نے اسامہ بن لادن کی تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے والے غیر ملکیوں کو اس علاقے میں پناہ دے رکھی ہے ۔ القاعدہ کے ایک لیڈر نیک محمد بھی ایک فوجی کارروائی میں ہلا ک ہو چکے ہیں ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||