BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 October, 2004, 06:38 GMT 11:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اقتصادی پابندیاں پھرلگ سکتی ہیں‘

سید افتخار حسین شاہ
گورنر سرحد سید افتخار حسین شاہ
گورنر سرحد لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سید افتخار حسین شاہ کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں القاعدہ کے روپوش غیرملکی افراد کے مسئلے کے حل کے لیے سیاسی اور عسکری دونوں محاذوں پر پیش رفت ہو رہی ہے۔

بی بی سی اردو سروس کے ساتھ پشاور میں ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں واضع کیا کہ اگر قبائلیوں نے اس ضمن میں تعاون نہ کیا تو حکومت دوبارہ اقتصادی پابندیاں عائد کر سکتی ہے۔

گورنر ہاؤس میں کیے جانے والے اس انٹرویو میں افتخار حسین شاہ کا کہنا تھا کہ قبائلیوں کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں وانا میں قدرے امن آگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجتماعی طور پر احمدزئی وزیر قبائل کے ساتھ بات چیت میں چند افراد کی وجہ سے مشکلات درپیش آ رہی تھیں۔

لہذا انہوں نے ان قبائل کے ساتھ انفرادی طور پر گفت و شنید شروع کی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اب صرف ایک قبیلہ عابدخیل سے کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا باقی تمام قبائل نے حکومت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

یاد رہے کہ القاعدہ کی مدد کے الزام میں حکومت کو انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل محمد شریف کا تعلق اسی قبیلے سے ہے۔

ان معاہدوں کی کامیابی کی ایک مثال گورنر نے شکئی کے چار قبائل سے معاہدے کو قرار دیا جس کے بعد سے ان کے بقول تقریباً دو ماہ سے اس علاقے میں کوئی عسکری کارروائی نہیں ہوئی ہے اور ان قبائل پر سے اقتصادی پابندیاں بھی اٹھا دی ہیں۔

دیگر صوبوں کے برعکس گورنر سرحد پر صدر مملکت کے نمائندے کے طور پر قبائلی علاقوں کا نظم ونسق چلانے کی اضافی ذمہ داریاں بھی نبھانی پڑتی ہیں۔ قبائلی علاقوں میں جاری سیاسی عمل کی نگرانی وہ خود کر رہے ہیں۔

News image
سید افتخار حسین شاہ چار ستمبر کو خطاب کر رہے ہیں

سید افتخار حسین شاہ صدر پرویز مشرف کے بااعتماد ساتھیوں میں سمجھے جاتے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ ملک کے باقی تین گورنر تو تبدیل ہوتے رہے ہیں لیکن گورنر سرحد اس عہدے پر تقریباً پانچ برس سے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

عسکری محاذ کی بات کرتے ہوئے گورنر نے بتایا کہ سکیورٹی دستوں نے گزشتہ دس روز سے جنوبی وزیرستان میں غیراعلانیہ جنگ بندی کر رکھی ہے اور صرف حملے کی صورت میں ہی وہ جوابی کارروائی کر رہی ہے۔

’فوج ان حملوں کے جواب میں خاموش تماشائی نہیں بن سکتی۔ دس روز کی جنگ بندی مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مدد دینے کی غرض سے کی جا رہی ہے۔ البتہ اس دوران فوج اپنا دفاع کرے گی اور اس میں کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔‘

انہوں نے کہا کہ وزیر علاقوں میں کارروائیوں اور مذاکرات کے نتیجے میں مشتبہ غیرملکی عسکریت پسند یا تو افغانستان چلے گئے ہیں یا شہری علاقوں میں یا ان میں سے کچھ محسود خطے میں روپوش ہوگئے ہیں۔ اور اب اس سلسلے میں محسود قبائل سے بات چیت ہو رہی ہے۔ تاہم انہوں نے واضع کیا کہ مٹھی بھر جنگجوؤں کو وزیرستان کا امن تباہ نہیں کرنے دیا جائے گا۔ ’ان افراد کی سرکوبی میں حکومت کو کوئی مشکل نہیں۔‘

سید افتخار حسین شاہ نے امید کا اظہار کیا کہ رکن قومی اسمبلی مولانا معراج الدین کی سربراہی میں اکیس رکنی مصالحتی کمیٹی کے ساتھ فریقین کے مثبت مذاکرات ہوئے ہیں۔

دوسری جانب مقامی جنگجوؤں کے کمانڈر عبداللہ محسود نے اس سرکاری دعوے کو غلط قرار دیا ہے کہ فوج نے پہلے سے جنگ بندی کر رکھی ہے۔ بی بی سی سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ فوج اب بھی گولہ باری کر رہی ہے۔

گورنر سرحد کے مطابق علاقے میں غیرملکیوں کی تعداد اب کم ہو کر تقریباً سو کے لگ بھگ رہ گئی ہے۔

انہوں نے اس تاثر کو بھی غلط قرار دیا کہ حکومت قبائلیوں کے ساتھ سختی سے پیش آ رہی ہے جبکہ القاعدہ کے اکثر غیر ملکی رہنما پنجاب یا کراچی سے گرفتار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی القاعدہ کا رکن گرفتار کیا جاتا ہے وہ یہی بتاتا ہے کہ اس نے تربیت وانا میں لی اور یہ کہ ان کا گڑھ وزیرستان ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد