BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 October, 2004, 07:51 GMT 12:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وانا میں چار طالب علم ہلاک

News image
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ سڑک کنارے ایک بارودی سرنگ کے دھماکے میں مرنے والے طالب علموں کی تعداد چار ہوگئی ہے جبکہ ایک زخمی ہوا ہے۔

باردوی سرنگ کا یہ تازہ دھماکہ جمعہ کو صبح ساڑھے سات بجے کے قریب سروکئی کے علاقے میں بنگش والا پل کے مقام پر ہوا۔

گورنمٹ ہائی سکول شاہور کے چند طالب علم حسب معمول صبح سکول جا رہے تھے کہ سڑک کنارے نصب بارودی سرنگ دھماکے سے پھٹ گئی۔

اس حادثے میں تین طالب علم جن میں دو بھائی بھی شامل تھے موقعے پر ہلاک جبکہ دو شدید زخمی ہوگئے۔

زخمیوں کو طبی امداد کے لئے قریبی ہسپتال منقتل کر دیا گیا جہاں ایک اور طالب علم بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ مرنے والوں کی عمر نو سے تیرہ سال کے درمیان بتائی جاتی ہے۔

علاقے سے موصول اطلاعات کے مطابق بعد میں ان طلبا کے مشتعل رشتہ داروں نے جنازے میں شریک چند مشتبہ افراد پر گولی چلا دی۔ اس واقعے میں ہلاکتیں ہوئی ہیں البتہ سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہورہی ہے۔

جنوبی وزیرستان میں جاری لڑائی میں اب تک فوجی ہی بارودی سرنگوں کا شکار ہوتے رہے ہیں لیکن یہ پہلا واقعہ ہے کہ عام شہری بھی اس کا نشانہ بنے ہیں۔

مقامی جنگجوؤں کے ایک کمانڈر عبداللہ محسود نے فون پر واضح کیا کہ یہ دھماکہ انہوں نے نہیں کیا بلکہ اس کی ذمہ داری حکومت پر ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح حکومت علاقے میں اپنی فوجی کارروائیوں کے لئے جواز پیدا کرنا چاہتی ہے۔

دریں اثنا مکین کے اڈہ بازار میں آج سہ پہر بم دھماکے کی اطلاع ہے۔ مقامی قبائلیوں کے مطابق اس میں ایک سیکورٹی اہلکار زخمی ہوا ہے البتہ سرکاری درائع اس کی تصدیق نہیں کر رہے۔

ادھر پشاور میں محسود قبائل کے ایک جرگے کو جس کی سربراہی رکن قومی اسمبلی مولانا معراج الدین کر رہے تھے حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ان کے علاقے میں فوجیوں کو پہنچنے والے نقصانات مزید برداشت نہیں کر سکتی۔ گورنر سرحد سید افتخار حسین شاہ نے جرگے کو عملی اقدامات اٹھانے کا مشورہ دیا۔

ادھر کاروان مانزہ کے ایک عبدالودانی نامی گاؤں میں گیارہ سالہ زخمی بچے کے چچا نے حکومت پر اسے بغیر کسی وجہ کے حراست میں رکھنے کا الزام لگایا ہے۔

مکرم خان نے بی بی سی کو تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ اس کے بھتیجے محمد نور کو نو ستمبر کو بکریاں چراتے ہوئے بائیں بازوں میں گولی لگی۔ اس کے دادا اسے طبی امداد کے لئے ٹانک لیجانا چاہتے تھے لیکن سیکورٹی اہلکاروں نے انہیں سات گھنٹوں تک جنڈولہ میں زیر حراست رکھا۔ بعد میں ٹانک ہسپتال میں بھی اسے بچے کو زنجیروں کے ساتھ باندھے رکھا اور اب اسے دادا کے ساتھ ڈیرہ جیل منقتل کر دیا گیا ہے۔

گیارہ سالہ محمد نور کا واقعہ شاید وزیرستان کے حالات کا واحد واقعہ نہ ہو۔ لیکن ذارئع ابلاغ میں شاید پابندیوں کی وجہ سے اس قسم کے واقعات سامنے نہیں آرہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد