BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 27 September, 2004, 09:46 GMT 14:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وانا: قافلے پر حملہ، پانچ فوجی ہلاک
فوج
فوج نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے
پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب احمد شیرپاؤ نے بتایا ہے کہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں شدت پسندوں نے ایک فوجی قافلے پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں پانچ سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ کئی زخمی ہوئے ہیں۔

پیر کی شب ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں دو فوجی گاڑیاں بھی مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں۔

وزیر داخلہ کے مطابق جنوبی وزیرستان کی تحصیل سروکئی میں ہونے والے اس حملے کے بعد شدت پسندوں کے خلاف کارروائی تیز کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جرگہ بھی تشکیل دے رکھا ہے اور جہاں مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا ہے وہاں ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی بھی کی جار ہی ہے۔

پشاور سے ہمارے نامہ نگار ہارون رشید نے بتایا ہے کہ حال ہی میں محسود قبائل کے علاقہ سروکئی کے قریب کسی بڑے فوجی قافلے پر حملے کا یہ تیسرا بڑا واقعہ ہے۔

اطلاعات کے مطابق ساٹھ سے زائد فوجی گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلہ پیر کی صبح وانا سے بنوں کے لئے روانہ ہوا۔ سروکئی کے علاقے میں مقامی آبادی کے مطابق گیارہ بجے کے قریب نامعلوم افراد نے سڑک پر نصب ریمورٹ کنٹرول بم سے دھماکے کر دیے۔

پاکستان فوج کے ایک ترجمان کے مطابق اس حملے میں ریمورٹ کنٹرول بم نہیں بلکہ راکٹ استعمال کئے گئے تھے جن سے تین فوجی ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوگئے تاہم مقامی قبائلیوں کے مطابق ہلاک شدگان کی تعداد اس سے زیادہ ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق ہلاک ہونے والوں کو فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے وہاں سے منتقل کیا گیا ہے۔

حملے میں ایک فوجی گاڑی مکمل طور پر تباہ جبکہ دو اور کو نقصان پہنچا ہے۔ فوج نے جائے وقوعہ کا محاصرہ کر رکھا ہے اور تمام راستے بھی بند کر دیے ہیں۔

یہ حملے وانا اور ٹانک کے درمیان سڑک پر حفاظتی اقدامات سخت کئے جانے کے باوجود رونما ہو رہے ہیں۔

ادھر وزیر اعظم شوکت عزیز کی جانب سے جنوبی وزیرستان میں اقتصادی پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد بازار مکمل طور پر آج کھل گیا۔ البتہ مکین میں کاروبار کا آغاز سرکاری اعلان کے باوجود آج دوسرے روز بھی نہ ہوسکا۔

دوسری جانب ذرائع نے انتہائی مطلوب پانچ قبائلی افراد کے ساتھ خفیہ مذاکرات کی بھی تصدیق کی ہے۔ ان مذاکرات میں خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سابق کرنل انعام اللہ وزیر اہم کردار ادا کر رہے ہیں البتہ ابھی یہ بات چیت کسی نتیجے پر نہیں پہنچی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد