عراق فوج بھیجنے کا امکان مسترد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے پاکستانی فوج کو عراق بھیجنے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔ نیویارک میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی داخلی صورت حال پاکستانی فوج کو عراق بھیجنے کے لیے ساز گار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان یہ تاثر دینے کا متحامل نہیں ہو سکتے کہ پاکستانی افواج عراق میں سرگرم قوتوں کا اضافی جز ہیں۔ صدر مشرف جمعہ کو بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ بھارت کے ساتھ جاری مربوط مذاکرات نیویارک میں موجود بی بی سی اردو سروس کے شاہ زیب جیلانی نے بتایا کہ صدر مشرف نے کہا ہے کہ وہ اس ملاقات میں مثبت اور تعمیری سوچ کے ساتھ جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے وفد کی طرف سے بھی مذاکرات کے حوالے سے مثبت اشارے مل رہے ہیں۔ اقوام متحدہ میں اپنے تقریر کے دوران کشمیر کے بارے میں پاکستان کے روائتی موقف سے ہٹ کر لچک دار روایہ اپنانے کے بارے میں وضاحت کر تے ہوئے صدر مشرف نے کہا کہ پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کشمیری عوام کو اس تقریر سے کیا پیغام ملے گا تو صدر مشرف نے کہا کہ کشمیری عوام کو ان پر اعتماد کرنا ہوگا۔ صدر مشرف نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||