کیا اکثریت دو صوبوں کا فیصلہ ہے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فارسی کا ایک شعر ہے با ہر کمال اندکے آشفتگی خوش است اس شعر کا سیدھا سادھا مطلب تو یہی ہے کہ ہر کمال کے ساتھ دیوانگی کا عنصر اچھا رہتا ہے اور یہ کہ بے شک آپ عقلِ کل ہو جائیں (تھوڑا سا) جنون ساتھ رہنا چاہیئے۔ معلوم نہیں کہ شعر لکھنے والے نے یہ مشورہ کیوں اور کس کو دیا تھا لیکن یہ شعر مجھے یوں یاد آیا کہ جنرل مشرف نے حال ہی میں دعوی کیا ہے کہ ملک کی اکثریت انہیں وردی میں دیکھنا چاہتی ہیں اور مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کیا اکثریت ضرورت سے زیادہ جنون میں مبتلا ہے یا پھر اقلیت عقلِ کل ہوگئی ہے؟ ایک بات بہر حال طے ہے کہ صدر پرویز مشرف کو وردی میں دیکھنے والی یہ اکثریت پاکستانی ہے۔ کیونکہ اگر یہ اکثریت غیر ملکی ہے تو پھر پوچھنے والے صدر مشرف سے پوچھنے کی جسارت کر سکتے ہیں کہ حضور! آپ پاکستانیوں کے صدر ہیں یا غیر ملکیوں کے؟ دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ یہ اکثریت پاکستان کے کون سے طبقے کی نمائندگی کرتی ہے؟ کیا اس طبقے کی جو جمہوریت پسند ہے یااس طبقے کی جو جہوریت پسند نہیں۔ اگر یہ جمہوریت پسند طبقہ نہیں ہے تو پھر صدر صاحب جن پر پہلے ہی ڈکٹیٹر ہونے کا الزام ہے نئی مشکل میں پھنس جائیں گے اور کہنے والے کہیں گے کہ وہ غیر جمہوری قوتوں کے بل پر حکمرانی کی خلعت اوڑھنا چاہتے ہیں۔ لہذا مجبوراً یہ کہنا پڑے گا کہ صدر صاحب کے دعوے کے مطابق وہ اکثریت جو انہیں وردی میں دیکھنا چاہتی ہے، جمہوریت پسند ہیں۔ پاکستان میں شاید مسلم لیگ سے بڑا کوئی ایسا ’جمہوریت پسند‘ طبقہ نہیں ہے جو حکومت کے سربراہ کو وردی میں دیکھنا پسند اور قبول کرے۔ کبھی جمہوریت بحال کرانے کے بہانے اور کبھی جمہوریت بچانے کے بہانے۔ مجھے تو یقین ہے کہ پاکستان کی تقدیر لکھنے والے نےمسلم لیگ کوحکمرانی کے سارے راز ودیعت کر دیئے ہیں۔ فوج کی وفاداری کا پرچم اٹھائے آج کل لیگی حضرات اسمبلیوں میں ’قراردادِ مشرف‘ پیش کرتے پھر رہے ہیں اور ایسی قراردادیں منظور کر کے فوج کے سربراہ کو ملکی سیاست میں گھسیٹنے کی التجائیں ہو رہی ہیں۔ لہذا فوج کا کہنا کہ خود سیاست دان انہیں اس ’گند‘ میں دھکیلتے ہیں درست ہے اس فرق کے ساتھ کہ جنہیں فوج سیاست دان کہتی ہے وہ محض پاکستان کی سیاست سے دان وصول کرنے والے لوگ ہیں۔ مجلس عمل والوں نے ایک سال پہلے پرویز مشرف کو صدر مشرف بنانے کا جو ’گناہ‘ کر دیا تھا آج کل وہ اس کا داغ دھونے کی کوشش میں ہیں۔ مشرف کی حمایت کا جواز پہلے بھی انہوں نے پیش کیا تھا مشرف کی مخالفت کی دلیل ’ظالموں‘ کے پاس اب بھی ہے۔ خیر! مجلس والوں کے ہنگاموں کا شور مسلم لیگیوں کے وفاداری کے نغموں میں دب سا گیا ہے۔ خود جنرل صاحب کو یقین ہوگیا ہے یا پھر دلا دیا گیا ہے کہ اکثریت انہیں وردی والا صدر دیکھنا چاہتی ہے۔ ایک ثبوت تو یہی ہے کہ سندھ اور پنجاب کی صوبائی اسمبلیوں میں ’قراردادِ مشرف‘ منظور ہو چکی۔ لیکن جنرل مشرف سے بہتر کون جانتا ہے کہ سرحد کی اسمبلی نے اس قرارداد کے خلاف ووٹ دیا ہے جبکہ بلوچستان میں ناکامی کے ڈر سے قرارداد پیش کر کے واپس لے لی گئی۔ لہذا حساب تو برابر ہو گیا۔ چار میں سے دو صوبائی اسمبلیاں نہیں چاہتیں کہ صدر مشرف وردی پہننے والے صدر ہوں۔ تو پھر اکثریت کا دعویٰ کیسا؟ ہُوا تو اصل میں یوں ہے کہ ملک کے دو صوبوں نے صدر کو وردی والا صدر بنانے کے خلاف ووٹ دے دیا ہے۔ ہاں یہ بے چارے دونوں صوبے چھوٹے ہیں۔ شاید اکثریت دوسرے دو صوبوں کی اسمبلیوں کے فیصلے کانام ہو۔مگر ایسا سمجھنے والے صرف وہی صاحبانِ عقل ہو سکتے ہیں جو اپنے آپ کو عقلِ کل سمجھیں۔ کیونکہ تھوڑے سے جنون والوں کو بھی پتہ ہے کہ انٹیلی جنس کی رپورٹوں سے یہ فیصلے نہیں ہوا کرتے کہ اکثریت کیا چاہتی ہے؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||