مشرف کی صدر بش سے ملاقات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنرل پرویز مشرف نےامریکی صدر جارج بش سے ملاقات کی ہے جس میں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ اور اس میں پاکستان کے کردار پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے ملاقات سے پہلے تصویر بنوائی اور صدر بش اور جنرل مشرف کافی دیر تک ہاتھ ملاتے رہے کیونکہ فوٹو گرافر ہاتھ ملاتے ہوئے ان کی تصویر بنانا چاہتے تھے۔ اس ملاقات کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس میں دو طرفہ امور کے کئی پہلوؤں پر بات چیت ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے عالمی سطح پر دہشت گردی کے مسئلے پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ صدر بش نے عراق سمیت علاقائی اور بین الاقوامی مسائل اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔ باور کیا جاتا ہے کہ پاکستان کے صدر نے صدر بش سے کہا کہ امریکہ عالمی سیاسی مسائل کے حل کے لیے اپنا موثر کردار ادا کرے اور جہالت کے خاتمے اور غربت مٹانے کی کوششوں میں مدد دے۔ پاکستانی رہنما کا کہنا تھا کہ یہ دونوں مسئلےانتہا پسندی کی اہم ترین وجوہات ہیں۔ صدر مشرف نے صدر بش کو جنوبی ایشیا کی صورتِ حال اور بھارت کے ساتھ پاکستان کے جامع مذاکرات اور کشمیر سمیت تمام مسائل حل کرنے کے کیئے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ اس ملاقات میں صدر مشرف کی معاونت کرنے والوں میں پاکستان کے وزیرِ خارجہ خورشید قصوری، وزیرِ اطلاعات شیخ رشید احمد، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نامزد سفیر جہانگیر کرامت، اور اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم شامل تھے۔ صدر بش کے ساتھ وزیرِ خارجہ کولن پاول، قومی سلامتی کی مشیر کونڈولیزا رائس اور چند دیگر سینیئر حکام تھے۔ صدر بش سے جنرل مشرف کی اڑتالیس گھنٹوں میں دوسری ملاقات تھی۔ پہلی ملاقات میں صدر بش کے ساتھ جنرل مشرف کے علاوہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی بھی تھے۔ دونوں ملکوں کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک دیرپا تعلق قائم کرنا چاہتے ہیں لیکن دونوں ممالک میں کہیں کہیں دباؤ بھی پایا جاتا ہے۔ صدر مشرف نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کی حکومت دہشت گردی بالخصوص القاعدہ تنظیم کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ بدھ کو جنرل مشرف اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے انسٹھویں اجلاس سے پاکستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے آٹھ بجے خطاب کریں گے۔ جمعہ کو پاکستان کے صدر بھارت کے وزیرِ اعظم من موہن سنگھ سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ مئی میں بھارت میں کانگریس کی حکومت آنے کے بعد جنرل مشرف کی من موہن سنگھ سے یہ پہلی ملاقات ہوگی۔ نیویارک میں بی بی سی کی نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے جنرل مشرف نے القاعدہ تنظیم کے خلاف پاکستانی حکومت کی جنگ کا خاص طور پر ذکر کیا اور اس کا مضبوط دفاع پیش کیا۔ انہوں نے کہا: ’ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارا بہت بڑا کردار ہے۔ جب کوئی کہتا ہے کہ ہم کچھ خاص نہیں کر رہے تو مجھے بہت مایوسی ہوتی ہے۔ اگر ہم کچھ نہیں کر رہے تو پھر اور کون کچھ کر رہا ہے۔ اگر کوئی کچھ کر رہا ہے تو وہ صرف پاکستان ہے۔‘ مارچ میں پاکستان نے جنوبی وزیرستان میں القاعدہ تنظیم کے کارکنوں اور ان قبائلیوں کے خلاف جو القاعدہ کے طرفدار تھےایک بڑی کارروائی شروع کی تھی۔ تب سے اب تک سینکڑوں افراد کے خلاف ایسی کارروائیاں ہوئی ہیں۔ جولائی سے اب تک پاکستانی حکام نے ساٹھ کے قریب مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ادھر صدر مشرف نے امریکہ میں قیام کے دوران اپنے پسندیدہ نظریے یعنی اسلامی دنیا میں روشن خیالی اور جدیدیت کی ترویج کی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق صدر مشرف اپنے خطاب میں بھی غالباً اس موضوع پر بات کریں گے۔ صدر مشرف کہتے ہیں وہ پاکستان کو انتہا پسندی سے دور لے جا رہے ہیں اور یہ کہ پاکستان کی آبادی کا ایک کثیر حصہ نہ تو بنیاد پرست ہے اور نہ انتہا پسند۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||