وانا: ٹرانسپورٹ چل پڑی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں آج سہ پہر تقریبا چار ماہ کی بندش کے بعد احمدزئی وزیر قبائل کی دوکانیں دوبارہ کھل چکی ہیں جبکہ ٹرانسپورٹ بھی چل پڑی ہے۔ البتہ آج صبح وانا بازار میں ریمورٹ کنٹرول بم کے دھماکے سے سکاوٹس کا ایک سپاہی اور ایک شہری زخمی ہوئے ہیں۔ احمدزئی وزیر قبائل پر القاعدہ کے خلاف کارروائیوں میں حکومت کی مدد نہ کرنے کے الزام پر تقریباً چار ماہ قبل عائد کی جانے اقتصادی پابندیاں آج سہ پہر اٹھا لی گئیں۔ پابندیاں اٹھانے کا اعلان وزیر اعظم شوکت عزیز نے سنیچر کے روز پشاور میں ایک قبائلی جرگے سے خطاب میں کیا تھا۔ اعلان کے بعد وانا کے دوکاندار توقع کر رہے تھے کہ صبح دوکانیں کھولنے دی جائیں گی لیکن یہ سہ پہر کو کھولنے دی گئیں۔ اس تاخیر کے باعث تاجروں کی بڑی تعداد واپس گھروں کو چلی گئی جس وجہ سے تقریبا چھ ہزار میں سے صرف چند سو دوکانیں ہی کھل سکیں۔ تاہم ٹرانسپورٹ صبح سے ہی چلنا شروع ہو چکی تھی۔ پابندیاں اٹھائے جانے کے اعلان کے بعد مقامی آبادی نے سکھ کا سانس لیا۔ وانا میں مقامی افراد نے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا لیکن کئی نے ساتھ ہی اس عرصے کے دوران انہیں پہنچنے والے مالی نقصانات کا ازالہ کرنے کی بات کی ہے۔ اتوار کی صبح وانا میں توکل مارکیٹ کے سامنے ریمورٹ کنٹرول سے کئے گئے دھماکے سے دو افراد جن میں ایک سکاوٹس اہلکار اور دوسرا عام شہری تھا زخمی ہوگئے۔ اس واقعے سے مبصرین کے بقول ظاہر ہوتا ہے کہ صورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی ہے۔ وانا بازار کے برعکس جنوبی وزیرستان میں لدھا سب ڈویژن میں مکین بازار کی تقریبا دو ہزار دوکانیں اطلاعات کے مطابق نہیں کھل سکی ہیں۔ وزیر اعظم کی جانب سے کل کے اعلان پر خوشی کا اظہار تو کیا جا رہا ہے لیکن مبصرین کے خیال میں القاعدہ کے غیر ملکی عناصر کے مسئلے کے مستقل حل تک یہ خوشی عارضی بھی ثابت ہوسکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||