وانا: پاکستانی فوج پر الزام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حقوقِ انسانی کے ایک بڑے اور آزاد ادارے نے مطالبہ کیا ہے کہ اسے قبائلی علاقے تک جانے کی رسائی دی جائے کیونکہ بقول اس کے ان علاقوں میں ’پاکسانی فوج انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مرتکب ہوئی ہے۔‘ اسلام آباد سے بی بی سی کے نامہ نگار پال اینڈرسن نے اپنے مراسلے میں لکھا ہے کہ جنوبی وزیرستان میں افغان سرحد کے ساتھ پاکستان کی فوج گزشتہ چھ مہینوں سے القاعدہ سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں مصروف ہے۔ پاکستان میں حقوقِ انسانی کے کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ علاقہ محاصرے میں ہے جہاں فوجی کارروائی ہو رہی ہے لہذا یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ کارروائی کے دوران کتنے عام لوگ نشانہ بن چکے ہیں۔ فوج کہتی ہے کہ اس نے جنوبی وزیرستان میں کارروائی کے دوران ایک سو پچاس کے قریب شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ علاقے کے ڈویژنل کمانڈر میجر جنرل نیاز خٹک نے حال ہی میں وانا میں صحافیوں کے اس گروپ کو جسے خصوصی طور پر فوج کی نگرانی میں علاقے میں بھیجا گیا تھا، یہ بتایا کہ فوج نشانہ لگا کر شدت پسندوں پر حملہ کرتی ہے تاکہ عام لوگوں کو کم سے کم نقصان پہنچے۔ لیکن حقوقِ انسانی کے کمیشن کے مطابق عورتوں اور بچوں سمیت سینکڑوں عام لوگ فوجی کارروائی کی زد میں آئے ہیں۔ کمیشن کے چیئرمین افراسیاب خٹک کا کہنا ہے کہ اس تمام بحران میں انسانی پہلو کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پچاس ہزار افراد بے گھر ہو گئے ہیں لیکن حکومت نے انہیں آباد کرنے ، انہیں خوراک اور ادویات فراہم کرنے کا کوئی انتظام نہیں کیا۔ نہ حکومت ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کو قبائلی علاقوں میں جانے کی اجازت دے رہی ہے۔ یہ ایک قسم کی جنگ ہے لیکن حکومت اس سے انکار کر رہی ہے۔‘ ادھر صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم’رپورٹرر سانز فرنٹیئرز‘ نے جنوبی وزیرستان میں صحافیوں کے داخلے پر لگی پابندی کی یہ کہتے ہوئے مذمت کی ہے کہ ’حکومتی وعدوں کے باوجود پاکستانی فوج جنوبی وزیرستان کی خبروں کا ایک ناقابلِ قبول بلیک آؤٹ کیے ہوئے ہے۔‘ پاکستانی فوج نے میڈیا کے ایک گروپ کو بہر حال علاقے کا دورہ کرایا ہے جہاں صحافیوں کو اسلحہ اور دیگر سازو سامان دکھایا گیا جو بقول اس کے شدت پسندوں سے جھڑپوں کے دو ماہ بعد ایک تہہ خانے سے قبضے میں لیا گیا۔ ہمارے نامہ نگار نے بتایا ہے ’فوجیوں کی موجودگی میں بعض قبائیلوں نےصحافیوں کے سامنے جنوبی وزیرستان سے شدت پسندوں کو نکالنے کی کارروائی کا خیر مقدم کیا۔ لیکن ایک قبائلی نور مراد عیدی نے ساتھ رہنے والے ایک فوجی کی آنکھ بچا کر ہمیں جو بتایا وہ بالکل مختلف تھا۔ اس نے کہا کہ یہ ایک ظالم فوج ہے اور اس نے بے گناہ لوگوں کی جان لی ہے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||