وزیرستان: مزاحمت جاری رہےگی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں فوج کے خلاف لڑنے والے مقامی جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے آپریشن بند ہونے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ ادھر محسود علاقے مکین سے اطلاعات ہیں کہ رات ایک بجے کے قریب شروع ہونے والی لڑائی صبح تک جاری رہی۔ البتہ کسی جانی نقصان کی خبر نہیں ملی ہے۔ خود کو مجاہدین کمانڈر کہلانے والے ایک شخص عبداللہ محسود نے ٹیلی فون پر بتایا کہ جب حکومت معصوم لوگوں پر فوجی آپریشن کی آڑ میں مظالم کر رہی ہو تو ایسے حالات میں مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ آخری سانس تک اپنی جنگ جاری رکھیں گے البتہ ساتھ میں وضاحت بھی کی کہ یہ لڑائی پاکستان یا اس کی فوج کے خلاف نہیں بلکہ امریکہ اور اس کے اشاروں پر ناچنے والوں کے خلاف ہے۔ عبداللہ گزشتہ دنوں کیوبا میں امریکی قیدخانے سے رہائی پا کر واپس لوٹے ہیں۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ خصوصاً بی بی سی پر کڑی تنقید کی کہ وہ عسکری کارروائیوں میں فوج کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں درست معلومات نشر یا شائع نہیں کرتی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پچھلے دنوں سروکئی میں فوجی قافلے پر حملے میں سترہ فوجی ہلاک جبکہ دس زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے میں وفاقی وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے پانچ فوجیوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی تھی۔ یرغمال بنائے جانے والے مبینہ فوجی ڈرائیور محمد شعبان کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اب وہ اس کو کسی قسم کے نقصان نہ پہنچانے کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ ’ہم نے اسے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے سامنے رہا کرنے کی پیشکش کی تھی لیکن حکومت نے صحافیوں کو وزیرستان میں داخل ہونے کی اجازت نہ دے کر اس موقعہ کو گنوا دیا ہے۔ اب گیند حکومت کے کورٹ میں ہے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||