ایک اور فوجی دھماکے میں ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں بارودی سرنگ کے دھماکوں میں فوجیوں کی ہلاکت کا سلسلہ جاری ہے۔ لدھا کے علاقے میں تازہ واقعے میں ایک فوجی ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔ بارودی سرنگ سے ہلاکت کا تازہ واقعہ رزمک سے مکین جا رہے ایک فوجی قافلے کے ساتھ آج دوپہر ایک بجے کے قریب پیش آیا۔ پاکستان فوج کے ترجمان برگیڈیر شاہ جہان علی خان نے بتایا کہ ریمورٹ کنٹرول دھماکے سے ایک فوجی ہلاک جبکہ چار زخمی ہوئے ہیں۔ اس دھماکے سے گاڑی بھی تباہ ہوگئی۔ مقامی ذرائع اس دھماکے میں ہلاکتوں اور زخمی ہونے والوں کی تعداد کافی ذیادہ بتا رہے ہیں۔ دھماکہ کے بعد نامعلوم حملہ آوروں کے ساتھ اس مقام پر ایک جھڑپ بھی ہوئی لیکن اس میں فوجی حکام کے بقول کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ مکین میں فوجی ٹھکانوں پر بھی آج صبح مشتبہ عسکریت پسندوں کی جانب سے حملے ہوئے جس کا سیکورٹی دستوں نے جواب دیا لیکن ترجمان کے مطابق اس میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ سیکورٹی دستوں کی لدھا سب ڈویژن میں سوکئی کلے اور سام کے علاقوں میں جاری گولہ باری سے دو مقامی قبائلی جن میں ایک چُھٹی پر آیا ہوا سکاوٹس کا اہلکار خیر زمان بھی شامل ہے ہلاک جبکہ ایک پانچ سالہ بچی سمیت پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق کئی مکانات کو گولہ باری سے آگ لگ گئی۔ البتہ حکام اس کی تصدیق نہیں کر رہے ہیں۔ بارودی سرنگوں سے ہلاکتوں کا سلسلہ گزشتہ تین روز سے جاری ہے جس میں اب تک حکام کے مطابق مجموعی طور پر آٹھ فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ جانی نقصانات سے بچنے کی پوری پوری کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم گزشتہ دنوں فوجی کارروائیوں کے محسود علاقوں تک پھیلنے کے بعد سے لڑائی میں بظاہر تیزی آئی ہے۔ عام شہریوں کے بقول وزیر قبائل کے بعد اب محسود علاقے میدان جنگ کا سا سماع پیش کر رہے ہیں۔ سیاسی عمل بھی بظاہر تعطل کا شکار نظر آرہا ہے۔ جرگے، ملاقاتوں اور خفیہ مذاکرات کی اطلاعات تو ملتی رہتی ہیں لیکن یہ تمام کوششیں کسی مستقل اور پائیدار حل کے حصول میں ناکام نظر آتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||