BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 09 December, 2004, 14:52 GMT 19:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وانا:’ آرمی کنٹرول تقریباً مکمل‘

نیاز خٹک
فوج ضرورت کے مطابق قبائلی علاقوں میں موجود رہے گی
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں فوجی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے تقریباً تمام علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ تاہم عسکریت پسندوں کی جانب سے اکا دکا حملوں کے جاری رہنے کا امکان موجود رہے گا۔

جنوبی وزیرستان میں فوجی کارروائیوں کے نگران میجر جنرل نیاز خٹک نے کوہاٹ میں صحافیوں کوعلاقے کی تازہ صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی۔

کوہاٹ کے تاریخی درانی قلعے میں تقریبا دو گھنٹے طویل بریفنگ میں جنرل نیاز نے بتایا کہ القاعدہ اور طالبان کے حامیوں کا نیٹ ورک توڑ دیا گیا ہے جس کے بعد اب ان کی حملے کرنے کی صلاحیت تقریبا ختم ہوگئی ہے۔

جنرل نیاز کا کہنا تھا کہ وزیر قبائل کے تمام جبکہ محسود قبائل کے اکثر علاقے اب فوج کے کنٹرول میں ہیں۔ البتہ ان کا ماننا تھا کہ عسکریت پسندوں کی جانب سے اکا دکا حملوں کا سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ موجود ہے۔ ’ہوسکتا ہے جو پہلے ایک ماہ میں دس حملے ہوتے تھے وہ اب ایک ہو۔ لیکن ذرائع ابلاغ کو احتیاط کرنی ہوگی اور انہیں سنسنی نہیں پھیلانی چاہیے‘۔

انہوں نے بتایا کہ پانچ سے چھ سو غیرملکیوں میں سے اب تقریبا ایک سو ہی علاقے میں روپوش ہوں گے ورنہ ان کی اکثریت یا تو ماری گئی ہے یا پھر علاقہ چھوڑ گئی ہے۔ ’ان کو اسلحے، پیسوں اور مدد کرنے والوں کی کمی ہوگئی ہے‘۔

پاکستان فوج کے فیلڈ کمانڈر کا کہنا تھا کہ ان کی کوہاٹ میں موجودگی سے آپ یہ تاثر لے سکتے ہیں کہ حالات کافی بہتر ہوچکے ہیں۔

جنرل نیاز نے بتایا کہ انہیں اسامہ کے بارے میں نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہے اور علاقے میں اس کی موجودگی کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔ تاہم انہوں نے القاعدہ کے تیسرے درجہ کی قیادت کی علاقے میں موجودگی کی تصدیق کی۔

انہوں نے عبداللہ محسود کے فوج سے کسی معاہدے یا کور کمانڈر صفدر حسین سے ملاقات کے دعوے کی سختی سے تردید کی ۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری شرائط کے مطابق وہ عبداللہ سے بات چیت کے لئے تیار ہیں۔

انہوں نے اس تاثر کو بھی غلط قرار دیا کہ عبداللہ کو پاکستان کا اسامہ بنایا جا رہا ہے۔ ’وہ جب بھی ہمیں ملا گرفتار ہوگا یا مارا جائے گا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ مارچ سے اب تک وزیرستان میں مجموعی طور پر دو سو کے قریب سکیورٹی فورسز کے اہکار ہلاک ہوچکے ہیں۔ انہوں نے البتہ مخالفین کے جانی نقصانات کے بارے میں تفصیل میں جانے سے گریز کیا۔ ’مخالفین اپنے ہلاک ہونے والے ساتھی کی لاش کو پیچھے چھوڑ کر نہیں جاتے تھے اور انہیں فورا کہیں قریب ہی دفنا دیتے تھے جس وجہ سے ان کی گنتی کرنا مشکل تھا‘۔

جنرل نیاز کا کہنا تھا کہ فوج ضرورت کے مطابق قبائلی علاقوں میں موجود رہے گی۔ ’ایک تو عسکریت پسندوں کی واپسی روکنے کے لئے اور دوسرا ترقیاتی کاموں کے لئے‘۔

ان کا موقف تھا کہ مقامی قبائل کا انہوں نے اعتماد ابتدائی بداعتمادی کے بعد حاصل کر لیا ہے اور اب وہ علاقے کی ترقی پر بھرپور توجہ دیں گے۔ ’اس سلسلے میں سڑکوں، سکولوں اور طبی مراکز کی تعمیر شروع کی جا رہی ہے‘۔

جنرل نیاز کا جوکہ خود بھی پٹھان ہیں کہنا تھا کہ سادہ قبائلیوں کو ہمیشہ بیرونی طاقتوں نے غلط استعمال کیا ہے جوکہ افسوس ناک ہے۔ انہوں نے بھی ان ماضی میں ان علاقوں کو ترقی کے اعتبار سے دیگر علاقوں کے برابر نہ لانے کو ایک غلطی قرار دیا۔

جنرل نیاز خٹک جو وانا میں اس سال مارچ سے فوجی کارروائیوں کی نگرانی کر رہے ہیں اپنی کامیابیوں سے کافی پراعتماد نظر آ رہے تھے۔ البتہ ابھی یہ واضح نہیں ہوا کہ وزیرستان میں موجودہ لڑائی میں کمی کی وجہ فوج کا کنٹرول ہے یا سرد موسم۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد