عبداللہ محسود کی گھر گھر تلاش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں سکیورٹی دستوں، مقامی انتظامیہ اور قبائلی لشکر نے ایک مقامی جنگجو کمانڈر عبداللہ محسود کی گرفتاری کے لئے علاقے میں گھر گھر تلاشی کا کام شروع کر دیا ہے۔ البتہ ابھی کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔ تلاشی کی اس کارروائی کے بارے میں مقامی بہلول زئی اور مانزئی قبائل نے آمادگی کا اظہار جمعہ کے روز کیا تھا۔ سپین کئی رغزئی کے علاقے میں اس کارروائی کے دوران اسی قبائلی افراد پر مشتمل ایک لشکر بھی سیکورٹی دستوں کی مدد کر رہا ہے۔ سپینکئی رغزئی بازار کے علاوہ چمڑے کے ایک کارخانے اور مدرسے کی تلاشی لی گئی ہے۔ کوئی مشتبہ شخص تو نہیں ملا البتہ اسلحہ گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔ ان میں ٹینک شکن بارودی سرنگیں، بندوقیں اور کارتوس شامل ہیں۔ علاقے میں گزشتہ تین روز کی لڑائی کے اثرات واضع تھے۔ گولہ باری سے بازار کی کئی دکانوں کو نقصان پہنچنے کے علاوہ نصف درجن گاڑیاں اور ایک پیٹرول پمپ بھی جل کر تباہ ہوا ہے۔ تلاشی سپینکئی رغزئی سے کوٹکی علاقے تک کی جا رہی ہے۔گھر گھر تلاشی کا مقصد بظاہر دو چینی انجینروں کے اغوا میں ملوث عبداللہ اور اس کے ساتھیوں کی گرفتاری ہے۔ ایک فوجی اہلکار کے مطابق انہوں نے سپین کئی رغزئی میں بڑی تعداد میں مشتبہ شدت پسندوں کے اکٹھا ہونے کی اطلاع پر کارروائی کی جس کے نتیجے میں یہ لوگ چھوٹے چھوٹے گروپوں میں تقسیم ہوگئے ہیں اور اب سیکورٹی دستوں کے ساتھ مختلف علاقوں میں آنکھ مچولی کھیل رہے ہیں۔ البتہ حکام کو شک ہے کہ عبداللہ اب تک یہ علاقے چھوڑ چکے ہونگے۔ ادھر کاروان مانزہ کے کارگل پیک کے قریب کل رات جنگجوؤں کے ایک حملے میں ایک فوجی کے ہلاک اور چھ کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ البتہ فوجی حکام نے اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا ہے۔ کاروان مانزہ کے علاوہ رات ڈیلہ کے علاقے میں بھی شدید گولہ باری کی اطلاعات ملی ہیں۔ تاہم کسی جانی نقصان کی خبر نہیں ملی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||