قافلے پرحملہ، پانچ فوجی ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں منگل کی شام ایک حملے میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد پانچ ہوگئی ہے۔ حملے کے بعد جھڑپ میں پانچ حملہ آوروں کی ہلاکت کی بھی اطلاع ہے۔ جنوبی وزیرستان کے محسود علاقے سپینکئی رغزئی میں تقریباً ایک درجن فوجی گاڑیوں پر کیا گیا۔ حکام کے مطابق نقاب پوش حملہ آوروں نے بم اور راکٹ استعمال کیے جس سے مرنے والے فوجیوں کی تعداد اب پانچ ہوگئی ہے جبکہ پانچ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ جوابی کارروائی سے دو حملہ آوروں کے ہلاک ہونے کے علاوہ مقامی قبائیلوں کے مطابق عام شہریوں کی ایک گاڑی پر فائرنگ سے تین افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق چار شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت ہوا جب پشاور میں کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل صفدر حسین نے مقامی صحافیوں کو ایک بریفنگ کے دوران بتایا کہ مارچ سے اب تک کے حملوں میں ڈیڑھ سو سے زائد فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ صفدر حسین کا کہنا تھا کہ فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک سو غیرملکیوں سمیت تقریباً اڑھائی سو مبینہ دہشت گرد ہلاک جبکہ پانچ سو گرفتار کئے گئے ہیں۔ ان کے مطابق علاقے میں جاری فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ان کے اندازے کے مطابق صرف سو کے قریب عسکریت پسند باقی رہ گئے ہیں۔ کور کمانڈر نے محسود جنگجو کمانڈر کو، جس نے گزشتہ دنوں دو چینی انجینیئروں کے اغوا کی ذمہ داری قبول کی تھی، ایک بیوقوف انسان قرار دیتے ہوئے، کہا کہ ان کا اگلا ہدف وہی ہوگا۔ بریفنگ میں کورکمانڈر نے اسامہ کی علاقے میں موجودگی کے تاثر کو مسترد کیا البتہ انہوں نے اعتراف کیا کہ ازبکستان کی اسلامی تحریک کے طاہر یلدیش شاید وہاں موجود ہوں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||