BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 October, 2004, 11:09 GMT 16:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیک محمد کے بعد عبداللہ؟

عبداللہ محسود
عبداللہ محسود
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں محسود قبائل کے جنگجوؤں کا لیڈر عبداللہ محسود آج کل بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

وہ القاعدہ کے خاتمے کے لیے پاکستانی سکیورٹی دستوں کی کارروائیوں کے خلاف مزاحمت کرنے والے جنگجوؤں کے ترجمان کی حیثیت سے بِلاخوف روزانہ بیانات دیتے نظر آتے ہیں۔

ان کی باتیں، سرگرمیاں اور میڈیا میں آنے کا شوق بظاہر اسی علاقے کے ایک مختلف قبیلے احمدزئی وزیر کے ہلاک ہونے والے جنگجو نیک محمد کی یاد دلاتا ہے۔

ساتھ میں یہ خدشات اور سوالات بھی ذہن میں ابھرتے ہیں کہ کہیں عبداللہ کا بھی انجام نیک محمد جیسا تو نہیں ہوگا؟ اب تک کی صورتحال سے اسی قسم کا اشارہ ملتا ہے۔

عبداللہ محسود، نیک محمد سے عمر میں صرف تین سال بڑے ہیں۔ دونوں میں جذبہ، حلیہ اور سوچ یکساں نظر آتی ہے اور بظاہر دونوں افغانستان کی جنگ میں شریک رہے اور دونوں جنگی حکمت علمی کے ماہر معلوم ہوتے ہیں۔

عبداللہ بھی نیک محمد کی طرح لمبے بال رکھتے ہیں لیکن شکل سے نیک محمد کے برعکس ازبک معلوم ہوتے ہیں۔

عبداللہ، نیک محمد کے مقابلے میں اردو بھی اچھی بول لیتے ہیں۔ وہ ڈی کام پاس کر چکے ہیں جبکہ نیک محمد نے صرف میٹرک کیا تھا۔

نیک محمد
نیک محمد

عبداللہ کو نیک محمد کے برعکس افغان اور کیوبا کے قیدخانوں میں وقت گزارنے کا بھی تجربہ ہے اور وہ طالبان کے شانہ بشانہ لڑنے کی دوران ایک ٹانگ بھی بارودی سرنگ کے دھماکے میں کھو چکے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ اب وزیرستان کے پہاڑوں میں گھوڑے پر گھومتے نظر آتے ہیں۔

ذرائع ابلاغ کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے میں عبداللہ اور نیک محمد دونوں ہی ناتجربہ کار نظر آتے ہیں۔

نیک محمد کی ہلاکت کے لیے ان کے ساتھی اور کئی لوگ میڈیا کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ لیکن لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان لوگوں نے خود میڈیا سے تعلق استوار کیا اور پھر اس کے چسکے سے نیک محمد دور رہ سکے اور نہ اب عبداللہ رہ پا رہا ہے۔

نیک محمد کو شہرت کا شوق تھا اور یہی وصف عبداللہ میں بھی نظر آ رہا ہے۔

عبداللہ کو بھی بار بار اور روزانہ مختلف ریڈیو اور ٹی وی چینلز پر بیانات دینے کا غالباً لطف آ رہا ہے۔ وہ باقاعدگی سے ان چینلز کو خود فون کرتے ہیں اور تازہ صورتحال پر تبصرے اور اپنی رائے کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔

نیک محمد کی طرح اب عبداللہ بھی حکومت کی انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہوگئے ہیں۔ سکیورٹی فورسز ان کی طاق میں ہیں لیکن اس کے باوجود وہ صحافیوں سے ملاقات کرتے ہیں اور انٹرویو دیتے ہیں۔

خفیہ ایجنسیوں کو انہیں ٹریک کرنے میں اب شاید زیادہ دقت نہ آئے۔ لیکن عبداللہ کو بھی شاید نیک محمد کی طرح اس کی فکر یا خوف نہیں۔ ان سے پوچھا کہ وہ احتیاط کیوں نہیں کرتے تو جواب میں اردو کا ایک شعر پڑھ دیا جس کا مطلب تھا کہ جو زندگی ہتھیلی پر رکھ کر راہ حق میں نکلے ہیں تو خوف کیسا ڈر کیسا۔

نیک اور عبدااللہ دونوں کو علم ہے کہ میڈیا کا سہارا لے کر وہ اپنا پیغام دنیا تک پہنچا سکتے ہیں لیکن نیک محمد شاید یہ بھول گئے تھے کہ یہ میڈیا دو دھاری تلوار ہے جو فائدہ تو دیتی ہے لیکن احتیاط نہ کرنے کی صورت میں نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔

معلوم نہیں کہ یہ بات عبداللہ کے علم میں ہے یا نہیں؟

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد