نیک محمد: ایک سوداگر طالب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے جنوبی وزیرستان کے شہر وانا میں جب سے مبینہ غیر ملکیوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا گیا ہے نیک محمد کا نام شہ سرخیوں میں نمایاں رہا ہے۔ نیک محمد اور دیگر پانچ قبائلیوں نے حکومت کے ساتھ ایک معاہد ہ بھی کیا تھا جو کامیاب نہیں رہا۔ کچھ لوگوں کے لیے اب بھی یہ بات دلچسپی کی حامل ہے آخر یہ نیک محمد کون تھے؟ نیک محمد وزیر کی عمر ستائیس برس تھی اور یار گل خیل قبیلے سے تعلق رکھتے تھا۔ انہوں نے تعلیم وانا کے ہائی سکول سے حاصل کی اور وانا میں لوگوں نے بتایا ہے کہ وہ تعلیم میں کوئی زیادہ نمایاں نہیں رہے۔ نیک محمد نے اپنے پیچھے ایک بیوہ ایک بچی اور ایک بچہ چھوڑا ہے۔ نیک محمد کی والدہ اور تین بھائی بھی ہیں۔ ابتدائی طور پر نیک محمد نے دینی مدرسے سے بھی تعلیم حاصل کی لیکن اسے مکمل نہ کرسکے۔ افغانستان سے اس کے رابطے شروع سے رہے ہیں۔ نیک محمد کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ افغانستان سے مختلف اشیاء لا کر وانا میں فروخت کرتے تھے جس سے ان کا گزر بسر چلتا تھا۔ نیک محمد انیس سو پچانوے میں طالبان تحریک میں شامل ہو گئے اور بگرام میں شمالی اتحاد کے خلاف طالبان کے ہمراہ لڑائی میں حصہ لیااور فتح حاصل کی۔اس کے بعد نیک محمد مسلسل مختلف محاذوں پر طالبان کے ساتھ رہا۔ نیک محمد نے طالبان کی شکست کے وقت افغانستان سے فرار ہو کر آنے والے جنگجوؤں کو پناہ بھی دی لیکن نیک محمد کے بارے میں دو مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔ ایک یہ کہ نیک محمد نے امریکہ کے خلاف جنگ میں خود حصہ لیا تھااور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ وانا آگیا تھا۔ دوسرا یہ کہ نیک محمد نے خود امریکہ کے خلاف طالبان کی جانب سے جنگ نہیں لڑی لیکن خود طالبان کا بڑا حمایتی رہا ہے۔ حالیہ فوجی کارروائی میں نیک محمد اس لیے نمایاں رہے کہ یہ اپنے ساتھیوں میں سب سے زیادہ پڑھے لکھے تھے اور یہ کہ وہ اپنے باقی ان پڑھ ساتھیوں کے برخلاف حکومتی اہلکاروں سے بہتر انداز میں بات چیت کر سکتے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||