وانا: حملے اور جوابی حملے جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں کل رات نامعلوم حملہ آوروں نے سکاوٹس کیمپ پر کئی راکٹ داغے جن سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک راکٹ کیمپ کے اندر ایک خالی بیرک پر گرا جبکہ مزید دو کھلے علاقے میں گرے۔ جواب میں سیکورٹی دستوں نے بھی کئی گھنٹوں تک حملے کی سمت گولہ باری کی۔ آج دوسرے روز بھی فوجی ہیلی کاپٹر جنوبی وزیرستان کے مختلف علاقوں جن میں محسود قبیلے کا علاقہ سپینکئی رغزئی بھی شامل ہیں پروازیں کیں لیکن بمباری میں حصہ نہیں لیا۔ تاہم سپینکئی رغزئی کے علاقے میں جہاں تقریبا ایک ہزار پاکستانی فوجی گزشتہ دنوں دو چینی انجینروں کے اغوا میں ملوث عبداللہ محسود کی تلاش میں کارروائی کر رہی ہے تمام رات ہلکے اور بھاری اسلحے سے حملے کرتے رہے۔ علاقے کو جانے والی تمام سڑکیں بند ہیں۔ لڑائی کی وجہ سے مقامی دیہات کے لوگ پیدل نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ یہ لوگ قریبی علاقے جنڈولہ بڑی تعداد میں پہنچ رہے ہیں۔ دوسری جانب جنگجوؤں کے ایک رہنما اور نیک محمد کے جانشین حاجی عمر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے حکومت سے ایک ماہ تک چلنے والے مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں جس کے بعد انہوں نے جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ فریقین کی جانب سے یہ بیانات حالات کی سنگینی کا اظہار کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||