پاک افغان سرحد پر سکیورٹی سخت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے سرحدی شہر چمن کے قریب پاک افغان سرحد پر حفاظتی اقدامات سخت کر دئے گئے ہیں جہاں اطلاعات کے مطابق فرنٹیئر کور کے علاوہ فوج بھی تعینات کی گئی ہے۔ سرکاری سطح پر یہ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ پاک افغان سرحد پر حفاظتی انتظامات سخت ہیں۔ افغانستان اور پاکستان آنے جانے والے افراد کے سفری کاغذات کی پڑتال کی جاتی ہے اور مشکوک افراد کی آمدو رفت کو انتہائی محدور کر دیا گیا ہے۔ اب ایک مرتبہ پھر سرحد پر اور چمن شہر کے قریبی علاقوں میں ایف سی یعنی نیم فوجی دستوں کی چوکیوں کی تعداد بڑھا دی گئی ہے اور باقاعدہ فوجی جوان بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔ یہاں یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ یہ اقدامات افغانستان میں اگلے ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات کے سلسلے میں کیے گئے ہیں۔ افغانستان میں صدارتی انتخابات نو اکتوبر کو ہونے ہیں اور اس سلسلے میں پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزین یہاں پاکستان میں اپنا ووٹ استعمال کا حق استعمال کریں گے۔ سرحد پر فوجی اور نیم فوجی دستوں کی مذید چوکیوں کے قیام کی سرکاری ذرائع نے نام نہ بتانے کی شرط پر تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاحال یہ علم نہیں ہے کہ آیا یہ تعیناتی افغان انتخابات کے حوالے سے کی گئی ہے یا یہ معمول کی کارروائی ہے۔ افغان انتخابات کے حوالے سے ذرائع ابلاغ کے ذریعے مشتبہ افغان قوتوں کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آئے ہیں جن میں دھمکیاں دی گئی ہیں کہ وہ افغان انتخابات کے حوالے سے پولنگ سٹیشن پر حملے کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں کوئٹہ اور پشاور کے قریبی پناہ گزیں کیمپوں کے علاوہ شہر میں پولنگ سٹیشن قائم کیے جائیں گے جہاں افغان پناہ گزیں اپنا ووٹ کا حق استعمال کر سکیں گے جبکہ یکم اکتوبر سے تین اکتوبر تک افغان ووٹروں کی رجسٹریشن ہو گی جس کے لیے ان انتخابات کی منتظم ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم کے انچارج نے کہا ہے کہ سخت حفاظتی اقدامات کئے جائیں گے۔ اور اس حوالےسے حکومت پاکستان کا مکمل تعاون حاصل ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||