افغان صدارت: انتحابی مہم شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں پہلے صدارتی انتخاب کی مہم شروع ہو چکی ہے اگرچہ ووٹنگ نو اکتوبر کو ہو گی۔ سرکردہ امیداواروں میں عبوری کے سربراہ اور موجودہ صدر حامد کرزئی ہیں جب کے ان کے علاوہ سترہ دوسرے امیدوار بھی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ تاہم حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والے ادارے کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق صدارتی انتخابات میں رکاوٹ اور امیدواروں کو دی جانے والی دھمکیاں اور رائے دہندگان کی حفاظت کے ناکافی اقدام ان صدارتی انتاحابات کا اہم مسئلہ ہیں۔ حقوق انسانی کے افغان کمیشن کا کہنا ہے کہ جمہوریت کے بارے میں لاعلمی کے سبب رائے دہندگان کو آسانی سے بہلایا پھسلایا جا سکتا ہے ۔ اس الیکشن میں صدر حامد کرزئی کو جن امیدواروں کا سامنا ہے ان میں ایک خاتون بھی ہیں۔ 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان میں یہ انتخابات جمہوریت کے آغاز کے سلسلے کی اہم کڑی ہیں۔ کمیشن کی چیئرمین سیما سمر نے بی بی سی کو بتایا کہ کئی لوگوں کو خفیہ بیلٹ کے تحت حاصل حقوق کا علم ہی نہیں ہے۔ سیما سمر کا کہنا ہے کہ با اثر امیدوار ووٹروں اور امیدواروں کو ڈرا دھمکا رہے ہیں اور کچھ سیاسی جماعتیں رد عمل کے خوف سے اپنے انتخابی پروگرام لوگوں کے سامنے کھل کرنہیں لا رہے ۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغانستان میں مختلف قبیلوں پر جنگجوں سرداروں کے کنٹرول کی وجہ سے لوگ آزادی سے اپنی رائے کا اظہار نہیں کر سکیں گے۔ کمیشن کی اس رپورٹ میں اجاگر کیا جانے والا ایک اور اہم موضوع ان علاقوں میں حفاظتی اقدمات ہیں جہاں شدت پسند گروپ اس سیاسی عمل کو پر تشدد طریقوں سے روکنا چاہتے ہیں ۔ طالبان اور دیگر شدت پسند گروپوں نے ان انتخابات میں روکاوٹیں ڈالنے کی دھمکی دی ہے ۔گزشتہ ہفتے کابل میں ایک امریکی سکیورٹی فرم کے باہر ایک بم دھماکے میں تین امریکیوں سمیت چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||