کابل میں سیکیورٹی انتظامات سخت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان دارالحکومت کابل کے وسط میں ایک بڑے بم دھماکے کے نتیجے میں متعدد ہلاکتوں کے بعد حفاظتی انتظامات انتہائی سخت کر دیے گئے ہیں اور چوکسی شدید کر دی گئی ہے۔ ان دھماکوں میں کم از کم سات افراد ہلاک بتائے گئے تھے تاہم عالمی امن فوج کے ذرائع کا کہنا ہے کہ چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں تین امریکی اور تین افغان تھے۔ دھماکہ اس علاقے میں ہوا تھا جہاں قریب ہی اس امریکی سکیورٹی ادارے کا دفتر ہے جو افغان صدر حامد کرزئی کے لیے محافظ فراہم کرتا ہے۔ دھماکے کے بعد پورے کابل میں مزید نگراں چوکیاں بنا دی گئی ہیں اور عالمی امن فوج کے جوان شہر میں جگہ جگہ گشت کر رہے ہیں ۔ شہر میں سفارتخانوں اور دوسرے سفارتی اداروں کی حفاظت پر بھی عالمی امن فوج کے افراد کو مقرر کیا گیا ہے اور لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ناگزیر ضرورت کے بغیر سفارتخانوں کی عمارتوں اور ایسے مقامات کے قریب نہ جائیں جہاں غیر ملکی جمع ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ غیرملکیوں کو مشورہ دیا گیا ہے وہ انتہائی ضرورت کے بغیر سفر نہ کریں۔ صدر حامد کرزئی نے اس دھماکے کو انتہائی بے چین کن قرار دیا ہے۔
دھماکہ کار بم سے کیا گیا تھا اور اس قدر طاقتور تھا کہ قرب وجوار کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ دھماکہ اس علاقے میں ہوا ہے جہاں امدادی کام کرنے والے غیر ملکی اداروں کے دفاتر بھی واقع ہیں۔ دھماکے کے چند ہی گھنٹے بعد طالبان نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے طالبان کے ایک ترجمان کے حوالے سے بتایا تھا کہ یہ ایک خود کش حملہ تھا جس میں خود کش بمبار بھی جاں بحق ہو گیا ہے۔ تاہم اب طالبان کے ترجمان حامد آغا نے بی بی سی کے نامہ نگار رحیم اللہ یوسف زئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکہ خود کش حملہ نہیں تھا۔ طالبان نے اس سے قبل کئی بار دھمکیاں دی ہیں اور متنبہ کیا ہے کہ افغانستان کے اکتوبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل اور دوران افغان حکومت اور عالمی امن فوج پر حملے کیے جائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||