حامد کرزئی کی مشکلات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے پیر سے پاکستان کے دورے پر اسلام آباد پہنچنا تھا لیکن یہ دورہ آخری لمحات پر ملتوی کر دیا گیا۔ افغان صدر حامد کرزئی نے اتوار کو صدر مشرف کو فون کر کے ذاتی طور پر اس دورے کو ملتوی کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ کابل سے جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ کیونکہ اس دورے کی تاریخیں افغانستان میں آئندہ برس ہونے والے صدارتی انتخابات میں کاغذات نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخوں کے ساتھ ٹکرا رہی تھیں اس لیے اس دورے کو ملتوی کر دیا گیا۔ پیر کو ان صدراتی انتخابات میں کاغذات نامزدگی داخل کرانے کی آخری تاریخ تھی۔ صدر کرزئی کو اپنے کاغذات کے ساتھ اپنے دو نائب صدور کے بھی کاغذات جمع کرانے تھے۔ مبصرین کی توقعات کے بر خلاف حامد کرزئی نے جنرل فہیم کے بجائے احمد شاہ مسعود کے بھائی احمد ضیاء مسعود اور عبدل کریم خلیلی کو اپنے نائب صدور کے امیدوار مقرر کیا۔ جنرل فہیم موجودہ عبوری حکومت میں نائب صدر اور وزیر دفاع کے اہم ترین عہدوں پر فائز ہیں۔ آئندہ انتخابات میں نائب صدر کے عہدے کے لیے الیکشن میں حصہ لینے کے لیے انہیں ان دونوں عہدوں سے ان کا مستعفی ہونا ضروری تھا۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک تجزئے کے مطابق جنرل فہیم یہ عہدے چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تھے اور اس معاملے نے کابل میں انہتائی کشدہ صورت حال پیدا کر دی تھی۔ گزشتہ سنیچر کو جنرل فہیم نے صدر کرزئی کی وزراء کے ساتھ ہفتہ وار اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی اور اطلاعات کے مطابق وہ افغان فوج کے چیف آف اسٹاف سے بات چیت میں مصروف رہے۔ حالات اس حد تک کشیدہ ہو گئے تھے کہ جنرل فہیم نے شمالی اتحاد کے اپنے جرنیلوں کو کابل طلب کر لیا اور انہیں تیار رہنے کے بارے میں احکامات جاری کر دیے۔ اس صورت حال کے پیش نظر چند بین الاقوامی فلاحی اداروں نے اپنے دفاتر بند کر دیے اور اپنے عملے کو باہر محتاط رہنے کی ہدایت کی۔ شہر میں یہ افواہیں بھی گردش کرنے لگیں کہ امریکی فوج فوجی اہمیت کے حامل قلعہ بالا حصار کو قبضے میں لینے کی تیاری کر رہی ہیں۔ قعلہ بالا حصار کابل میں ایک بلند مقام پر واقع ہے اور یہاں پر موجود جنرل فہیم کے لوگوں کے پاس شہر میں بچ جانے والے کچھ ٹینک اور بھاری ہتھیار ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ مسئلہ اتوار تک طے کر لیا گیا تھا۔ تاہم اس بارے میں اب کوئی شبہ نہیں باقی رہ گیا کہ سیاسی کشمکش اور ممکنہ مسلح تصادم کے پیش نظر صدر کرزئی نے اپنا دورہ پاکستان ملتوی کیا۔ افغانستان میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں اب ایک درجن سے زیادہ امیدوار سامنے آ چکے ہیں، جن میں ازبک کمانڈر جنرل عبدالرشید دوستم ، شیعہ کمانڈر حاجی محمد محقق، شامل ہیں۔ ان امیدواروں کی موجودگی میں ووٹر فرقوں کی بنیادوں پر بنٹ جائیں گے۔ جنرل فہیم کے استفعی دینے کی صورت میں ان کی جگہ جنرل رحیم وردک کا وزیر دفاع کا عہدہ سنبھالنے کا امکان تھا۔ جنرل وردک ایک پشتوں ہیں اور افغانستان کے علاقائی مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے کے پرزور حامی ہیں۔ جنرل فہیم شمالی اتحاد میں شامل مسلح افراد کو غیر مسلح کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کیونکہ اس وقت افغانستان میں ان کا گروہ سب سے زیادہ طاقت ور ہے۔ اقوام متحدہ کی طرف سے افغانستان میں مقامی مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں میں یہ سب سے بڑی روکاٹ رہی ہے اور اسی وجہ سے صدارتی انتخابات کو چھ ماہ کے لیے اگلے موسم بہار تک ملتوی کرنا پڑا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||