قبائل پر پابندی اٹھانے کی پیشکش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان نے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے قبائل سے کہا ہے کہ ان قبیلوں پر سے اقتصادی پابندیاں اٹھا دی جائیں گی جو حکومت کو مطلوب افراد ان کے حوالے کر دیں گے۔ یہ اعلان احمدزئی وزیر قبائل کے پانچ سو افراد پر مشتمل ایک جرگے سے جمعرات کی رات گئے گورنر سرحد لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ سید افتخار حسین شاہ نے پشاور میں ایک ملاقات کے دوران کیا۔ جرگے نے فیصلہ کیا کہ مقامی پولیٹکل ایجنٹ آئندہ چند روز میں ان قبائل کو مطلوب افراد کی فہرست حوالے کر دے گا۔ احمدزئی وزیر قبائل کی تقریبا تمام ذیلی شاخوں سے گزشتہ ایک ماہ کے دوران باری باری تحریری معاہدے کیے ہیں جن کی رو سے یہ قبائل اپنے اپنے علاقوں کے ذمہ دار خود ہونگے۔ ان قبائل نے ایک ایک کروڑ روپے کی ضمانتیں بھی حکومت کو دی ہیں۔ گورنر نے قبائل سے کہا کہ راکٹ حملے اور بارودی رنگوں کے دھماکے جیسی تخریبی کارروائیاں بند ہونی چاہئیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اگر احمدزئی وزیر قبیلے نے اپنی ذمہ داری پوری کی تو ان کی مراعات بحال کر دی جائیں گی، بازار کھول دیے جائیں گے اور ٹرانسپورٹ چلنے دی جائے گی اور بےگناہ افراد کو رہا بھی کر دیا جائے گا۔ وانا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق لدھا سب ڈویژن میں ساری رات جھڑپیں جاری رہیں اورجمعہ کی صبح نامعلوم افراد نے وانا سکاؤٹ کیمپ پر جنوب سے حملہ کردیا۔ سکاؤٹس نے توپوں، مارٹر گنوں اور چھوٹے ہتھیاروں سے زبردست جوابی کارروائی کا آغاز کر دیا اور قریبی آبادی میں گولے گرنے سے دو افراد کے زخمی ہوجانے کی اطلاع ہے جن میں ایک بچی بھی شامل ہے۔ علاقے میں موجود صحافی دلاور خان نے بتایا ہے کہ وانا سکاؤٹ کیمپ پر جو علاقے کا سب سے بڑا کیمپ ہے جنوب کی طرف سے حملہ کیا گیا۔ اس حملے میں راکٹ لانچر کے گولے داغے گئے۔ ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ ادھر جمعہ کو قبائلی عمائدین ایک بار پھر مل رہے ہیں اور اس جرگے میں کچھ اہم فیصلے کیے جانے کی توقع ہے۔ گزشتہ روز یعنی جمعرات کو بھی گورنر اور محسود قبائل کے سرکردہ لوگوں کا ایک اجلاس ہوا تھا جس کے تسلسل میں جمعہ کو بعد دوپہر ایک جرگہ منقعد کیا جا رہا ہے۔ دلاور خان کے مطابق اس جرگے سے پہلے مکین کے بازار میں جنگجوؤں کا قبضہ تھا لیکن مذاکرات کے بعد اب وہ لوگ وہاں سے چلے گئے ہیں اور فوج بازار میں آ گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||