وانا: سپاہی ہلاک، متعدد زخمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں کئی مقامات پر گزشتہ کئی روز سیکورٹی دستوں اور قبائلی جنگجوں کے درمیان جھڑپوں میں بظاہر شدت آتی نطر آرہی ہے۔ تاہم آج کی لڑائی میں ایک سپاہی کے ہلاک ہونے کے علاوہ پانچ فوجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ دو طالب علم بھی زخمی ہوئے ہیں۔ کاروان مانزہ، آسمان مانزہ، ڈیلہ اور مکین کے علاقے میں بدستور تصادم جاری ہے۔ صدر مقام وانا میں آج دوپہر ایک بجے کے قریب اپر سکاؤٹس کیمپ پر نامعلوم افراد نے جنوب سے راکٹ داغے جن سے ایک سپاہی ہلاک جوکہ تین شدید زخمی ہوئے ہیں۔ سیکورٹی فورسز نے بھی ایک گھنٹے تک جوابی گولہ باری کی جس سے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ درویش پبلک سکول کے چھٹی کلاس کے دو طالب علم گلزادہ اور ظہیر عباس زحمی ہوئے ہیں۔ یہ گزشتہ ماہ چودہ اگست کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ دن میں وانا میں سیکیورٹی فورسز پر حملہ ہوا ہے۔ ادھر تازہ اطلاعات کے مطابق جنڈولہ وانا سڑک پر محسود علاقے سروکئی میں ایک فوجی قافلے پر حملہ ہوا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دو فوجی زخمی ہوئے ہیں البتہ سڑک کو بند کر دیا گیا ہے۔ مقامی لوگوں کو خدشہ ہے کہ جانی نقصان زیادہ ہوسکتا ہے۔ اسی مقام کے قریب اس سال مارچ میں بھی ایک فوجی قافلہ پر حملہ ہوا تھا جس میں تیرہ فوجی موقع پر ہلاک جبکہ سات کو اغوا کر کے بعد میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ کچھ لوگوں کے مطابق اس قافلے کو فوجی ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی حاصل تھی۔ اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے منگل کی صبح مکین میں ایک مدرسے پر گولہ باری شروع کی جہاں حکام کو شک ہے کہ القاعدہ کے غیرملکی افراد نے پناہ لے رکھی ہے۔ شام تک یہ سلسلہ جاری تھا اور عینی شاہدین کے مطابق مدرسے کو چاروں اطراف میں پہاڑوں میں مورچہ زن نیم فوجی دستوں نے گھیر رکھا ہے۔ مکین میں اس گولہ باری سے مولانا محمد شفیق کے مدرسے کی دیواریں گر گئی ہیں جب کہ قریب میں مولانا کا مکان بھی گولوں کی زد میں آیا ہے۔ البتہ کسی جانی نقصان کی اطلاع ابھی نہیں ملی ہے۔ فوج کے ترجمان نے اس حملے کی تردید کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مدرسے میں غیرملکیوں اور ان کے مقامی حامیوں نے پناہ لے رکھی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق مولانا خود بھی حکومت کو مطلوب ہیں۔ فی الحال سیکیورٹی دستے گولہ باری کر رہے ہیں لیکن انہوں نے زمینی کارروائی شروع نہیں کی ہے۔ ایک مقامی قبائلی جنگجو عبداللہ محسود نے بھی اسی قسم کی اطلاعات ملنے کی تصدیق کی ہے۔ ٹیلیفون پر بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات چیت میں انہوں نے دعوی کیا کہ مزاحمت میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے البتہ انہوں نے واضع کیا کہ یہ جنگ پاکستان نہیں بلکہ امریکہ کہ خلاف کی جا رہی ہے۔ عبداللہ نے جنوبی وزیرستان کی تمام سڑکوں کو فوجی نقل و حرکت کے لئے ناقابل استعمال بنانے کا بھی دعوی کیا۔ دریں اثناء روغا کے علاقے میں عینی شاہدوں کے مطابق تازہ فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے روغا فورٹ میں اتارنے کی خبر بھی دے رہے ہیں۔ یہ علاقہ وانا سے تقریبا ستر کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔ جنوبی وزیرستان میں جہاں سیکیورٹی دستوں اور قبائلی جنگجوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے وہیں چار قبائل نے حکومت کے ساتھ تعاون کا معاہدہ کیا ہے۔ تازہ معاہدہ حکومت اور جنوبی وزیرستان کے احمدزئی وزیر قبائل کی چار ذیلی شاخوں خوجل خیل، توجی خیل، کاکا خیل اور سرکی خیل کے درمیان کل رات گئے پشاور میں ہوا۔ تقریبا دو سو قبائلیوں پر مشتمل ایک جرگے نے گورنر سرحد لیفٹینٹ جنرل (ریٹائرڈ) سید افتخار حسین شاہ سے ملاقات کی اور اپنے علاقے کو غیرملکی عسکریت پسندوں سے پاک رکھنے اور مطلوب افراد حکومت کے حوالے کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ان میں القاعدہ کی مدد کے الزام میں مطلوب کاکا خیل سے تعلق رکھنے والے مولوی عباس بھی شامل ہیں۔ کئی مطلوب افراد کے قبیلوں نے اس سے قبل بھی حکومت سے اسی قسم کے معاہدے کیے ہیں لیکن وہ انہیں اب تک حوالے کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی کئی جنوبی اور شمالی وزیرستان کے کئی قبائل حکومت سے اس قسم کے معاہدے کر چکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||