جنوبی وزیرستان میں غیراعلان شدہ جنگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی طاقتور فوج اور پشتون قبائلیوں کیلئے افغانستان کے سرحد پر واقع جنوبی وزیرستان ایک طرح سے جنگ کا میدان بن گیا ہے۔ غیرمقامی لوگوں کو یہاں جانے کی اجازت نہیں ہے، صحافیوں وہاں جانہیں سکتے اور علاقے کا اہم شہر وانا ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل ہوگیا ہے۔ مسلح جھڑپیں، بارودی دھماکے، توپخانے کا استعمال، فضائی بمباری روز مرہ کے معمول بن چکے ہیں۔ یہ جنگ کا میدان ہی لگتا ہے۔ القاعدہ کے شدت پسندوں کے مبینہ تربیتی کیمپ پر فضائیہ کی حالیہ بمباری اور گن شِپ ہیلی کاپٹروں سے حملے میں کافی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ لہذا یہ لڑائی ایک ایسے علاقے میں ہورہی ہے جو قدرے پرامن رہا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں میں مشتبہ شدت پسندوں کے ٹھکانے پر یہ تیسری فوجی بمباری تھی۔ اس کی وجہ سے ملک میں سکیورٹی آپریشن کی نوعیت میں تبدیلی آئی ہے۔ اب تک فوج نے ملک میں مسلح مزاحمت کو کچلنے کے لئے کبھی فضائی بمباری نہیں کی تھی۔ حالیہ کارروائی میں فوج کو شاید بڑا جانی نقصان نہ پہنچا ہو، کیونکہ فضائی طاقت اور لمبی دوری تک مار کرنے والے راکٹ استعمال کیے گئے۔ لیکن گزشتہ مارچ سے جب یہ لڑائی شروع ہوئی تھی اب تک درجنوں فوجی مارے گئے ہیں جن میں افسر بھی شامل ہیں۔ درجنوں مقامی اور غیرملکی شدت پسند مارے بھی گئے ہیں۔ لیکن یہ بات روز بہ روز واضح ہوتی جارہی ہے کہ پاکستان کی اس غیراعلان شدہ جنگ کے شکار مقامی قبائلی باشندے اور ان کے خاندان ہیں جو اس لڑائی میں پھنس گئے ہیں۔ کسی نہ کسی طرح یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ شدت پسندوں کی مسلح مزاحمت کرنے کی طاقت اور شہریوں کی جانیں ضائع ہونے کے بارے میں فوج کا اندازہ غلط تھا۔ تو اس خونریز لڑائی کا، جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتی، نتیجہ کیا نکلے گا؟ کسی کو اس کا جواب سمجھ میں نہیں آتا۔
فوج کی کارروائی القاعدہ کے خلاف آپریشن کا حصہ ہے۔ امریکہ کی سربراہی میں سکیورٹی فورسز افغان سرحد کے پار کارروائیاں کرتی رہی ہیں اور حکومت ِپاکستان کو اس بات کا اعتراف ہے کہ امریکی اطلاعات اور انٹیلیجنس کے معاملے میں پاکستانی فوج کی مدد کرتے رہے ہیں۔ امریکی۔پاکستانی مشترکہ کوششوں کا مقصد اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کو پکڑنا ہے۔ اس بات کی قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ یہ افراد اور ان کے قریبی ساتھی اس علاقے میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور یہاں سے اپنی کارروائیاں کرتے ہیں۔ فوجی آپریشن کے آغاز سے حکام اس واضح نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس علاقے میں ازبک، چیچن اور عرب شدت پسند موجود ہیں۔ قبائلی لوگ اس فوجی کارروائی کو اپنے اقتدار اعلی پر حملہ تصور کرتے ہیں اور بااثر مزاحمت کرتے رہے ہیں۔ اس نیم خودمختار علاقے کے رہنے والے عشروں سے پاکستانی اور غیرملکی فورسز کی موجودگی کے خلاف لڑنے کے کی روایت رکھتے ہیں۔ جولائی سن دو ہزار دو میں گزشتہ پچپن برسوں میں پہلی بار پاکستانی فوج نے خیبر ایجنسی کی وادی تیرہ میں قدم رکھا۔ پھر پاکستانی فوج شمالی وزیرستان کی وادی شاول اور بعد میں جنوبی وزیرستان میں داخل ہوئی۔ یہ سب کچھ متعدد قبائلیوں سے طویل مذاکرات کے بعد ممکن ہوا تھا۔ قبائلیوں نے اس بات کی اجازت اس لئے دی تھی کہ فوج نے وعدہ کیا کہ علاقے کی ترقی کے لئے مالی اور دیگر امداد فراہم کی جائے گی۔ لیکن جب جنوبی وزیرستان میں فوجی کارروائی شروع ہوئی تو علاقے کے متعدد وزیری قبائلیوں نے اسے انہیں سرنگوں کرنے کی کوشش تصور کیا۔ غیرملکی شدت پسندوں کو فوج کے حوالے کرنے کے لئے ہونے والے مذاکرات ناکام ہوگئے، اور حکام کی غیردانشمندی کی وجہ سے القاعدہ کے مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی نے ایک غیراعلان شدہ جنگ کی نوعیت اختیار کرلی۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ حالات ایسے ہیں جن میں پاکستانی فوج جیت نہیں سکتی۔ فوج اپنے آپریشن کو ادھورا نہیں چھوڑ سکتی، اس لئے اب گن شِپ ہیلی کاپٹروں اور فضائی بمباری کا سہارا لے رہی ہے ان لوگوں کے خلاف جنہیں حکومت پہلے ’مٹھی بھر غیرملکی شدت پسند اور کچھ مقامی شرپسند عناصر‘ کہتی تھی۔ حکام اور مقامی قبائلیوں کے درمیان تعلقات اس حد تک خراب ہوگئے ہیں کہ اگر علاقے سے غیرملکی شدت پسندوں کا خاتمہ بھی ہوجائے تب بھی پاکستانی فوج اس دلدل میں برسوں پھنسی رہ سکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||